کراچی میں شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک کیمپس نہیں لگائے جا سکے

کراچی: شہر قائد میں گرمی کی شدت میں اضافے کے باوجود شہری و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہیٹ اسٹروک کیمپس نہیں لگائے گئے، بیشتر سرکاری ونجی اسپتالوں میں بھی انتظامات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ گرمی کے باعث درجنوں شہریوں کی حالت غیر ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک میں شہر میں گرمی کی شدت میں اضافے کا اداروں نے پہلے ہی بتا دیا تھا، جس کے بعد ہیٹ ویو وارننگ بھی جاری کر دی گئی تھی لیکن صوبائی و شہری حکومت کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں اور مختلف مقامات پر ہیٹ اسٹروک کیمپس نہیں لگائے گئے۔

ماہرین کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک کی بھرمار کی وجہ سے محسوس ہونے والا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں ہیٹ ویو سے بچاؤ کیلئے بہت زیادہ کیمپوں کی ضرورت ہے۔ رمضان میں کیمپوں پر برف کی مدد سے بھی متاثرہ شخص کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے پر بند کمروں میں نہ رہیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں، اگر ضروری ہو تو گیلے کپڑے سے سر اور جسم ڈھانپ کر باہر نکلا جائے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مرغن غذا کے بجائے سادہ غذا، سبزیوں، دہی اور لسی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے، بچوں کو باہر کھیلنے نہیں دیا جائے، انہیں باریک کپڑے پہنائے جائیں۔ دوسری جانب ہیٹ اسٹروک ایمرجنسی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور سیکریٹری صحت کے احکامات بھی نظر انداز کئے گئے ہیں۔ حکومت سندھ نے تمام اسپتالوں کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ متعدد اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک سینٹر قائم نہ ہو سکے۔ سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں ہیٹ اسٹروک کے حوالے سے کوئی انتظامات نہیں، صرف ہیٹ اسٹروک کا بینر لٹکا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نیا بینچ تشکیل, دینے کے لیے, معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا, دیا

نیا بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا

کراچی: جسٹس محمد سلیم جیسر نے کرپشن کیس میں آغا سراج درانی اور دیگر کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے