کراچی کی عدالت میں کتے کے اغوا اور بلی کے قتل کا مقدمہ، زیرسماعت

پالتو کتے کے اغوا اوربلی کے قتل کے مقدمے میں مالکن کو انصاف نہ مل سکا جب کہ پولیس نے ملزمان کوگرفتار کرنے میں ناکامی کے بعد مقدمہ ہی اے کلاس قراردے دیا۔ سٹی کورٹ میں جوڈیشل میجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں پالتوکتے کے اغوا اوربلی کو زہردے کرہلاک کرنے کی کوشش سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، تفتیشی افسر نے مقدمہ اے کلاس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت کتا اغوا اوربلی اسپتال میں زیرعلاج ہے، مقدمے میں نہ کوئی گواہ ہے نہ ہی کوئی ثبوت ہے، ایک شہری کو حراست میں لے کرعدم شواہد کے باعث چھوڑ دیا گیا، ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاہم کیس کو اے کلاس کیا جائے۔واضح رہے کہ فرحت جمیل نامی خاتون نے گزری پولیس اسٹیشن نے اپنے چوکیدارعمر دراز خان اور گھریلو ملازمہ رقیہ کے خلاف رپورٹ درج کرائی تھی ۔ فرحت جمیل نے اپنی درخواست دائر میں موقف اختیارکیا تھا کہ عمردراز اور رقیہ نے میری پالتو بلی کو زہردیا، چوکیدار میرے کتے کو گھر سے باہر لے کر گیا جوچھین لیا گیا، چوکیدار اور ماسی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

کراچی: چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے