ہزاروں حاملہ مسلمان لڑکیاں، کہاں اور کن کے ناجائز بچوں کو جنم دینے والی ہیں، جان کر آپ کے رونگٹے۔۔۔

میانمر میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے جو پہاڑ ڈھائے گئے ان کا تذکرہ آپ ضرور سنتے رہے ہوں گے۔ مسلمانوں کے گھر جلا دئیے گئے، مردوں کو قتل کیا گیا اور خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی۔ ان مظالم کو 9ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اب بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں امدادی تنظیموں کے کارکن ان ہزاروں روہنگیا لڑکیوں کی شناخت کررہے ہیں جو میانمر میں جنسی زیادتیوں کے نتیجے میں حاملہ ہوئی ہیں اور اب ان کے ہاں بچوں کی پیدائش کا وقت آن پہنچا ہے۔ان پناہ گزین کیمپوں میں لاکھوں کی تعداد میں بے گھر اور بے سہارا افراد موجود ہیں اور ایسے میں ان لڑکیوں کو ڈھونڈنا کہ جو میانمر میں جنسی زیادتی کے باعث حاملہ ہوئیں ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ شرم کے باعث ان میں سے اکثر لڑکیاں سامنے آنے سے گریز کررہی ہیں جبکہ کیمپوں میں طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔میانمر کی فوج نے گزشتہ سال اگست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سفاکانہ آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں سات لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر اور دیگر مال و متاع چھوڑ کر بنگلہ دیش کی جانب فرار ہونے پر مجبو رہوگئے۔ روہنگیا مسلمانوں کی کتنی خواتین کو جنسی مظالم کا نشانہ بنایا گیا اس کے بارے میں مصدقہ اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں لیکن انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم از کم 48 ہزار مسلم لڑکیاں ان مظالم کی وجہ سے حاملہ ہوئیں اور ان سب کے ہاں عنقریب بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں

حکومتی اتحادی جماعت کی علیحدگی کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

حکومتی اتحادی جماعت کی علیحدگی کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

روم: جوزیپے کونٹے نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ حکمران اتحاد میں شامل وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے