خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 45 ہلاک

یکم جولائی سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں اب تک صوبہ بھر میں 45 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کو خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے۔

ان تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس دنوں کے دوران بارشوں کی وجہ سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہاڑی ضلع چترال میں ہوا، جہاں سیلاب کے باعث اب تک 29 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مرنے والوں میں 21 عام شہری اور آٹھ فوجی اہلکار شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چترال میں سیلاب کی وجہ سے دس افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

صوبے کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں بھی بارشوں اور چھتوں کے گرنے کے واقعات میں سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مردان، ملاکنڈ، مانسہرہ اور سوات کے اضلاع میں بھی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث نو افراد ہلاک ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے صوبہ بھر میں 25 افراد زخمی ہوئے جبکہ 50 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

تاہم مقامی ذرائع نے زخمیوں اور دیگر نقصانات کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

ادھر چترال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو جولائی کی رات اورسون کے علاقے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے بےگھر ہونے والے 50 کے قریب خاندانوں کو تاحال کوئی محفوظ جگہ نہیں مل سکی ہے۔

چترال سے رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان نےبتایا کہ بیشتر بےگھر خاندان حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چترال میں گذشتہ چار سالوں سے مسلسل ہر سال سیلاب آرہے ہیں جس سے علاقے کا تمام بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین اور دیگر عام شہریوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں سال ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال بارشیں دس سے 20 فیصد زیادہ ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آئین کے تحت مشیران اور, معاونِ خصوصی کو, حکومتی امور کے, اختیارات, نہیں دیے, جاسکتے

آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے

پشاور: جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے