اسرائیل میں ’پہلا‘ فلسطینی قبرستان دریافت

اسرائیل میں 30 سالہ تحقیقات کے بعد ماہرین نے ایک فلسطینی قبرستان دریافت کیا ہے یہ خیال کیا جاتا ہے یہ لوگ بنی اسرائیل کو فلسطین میں پریشان کرتے تھے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ حالیہ دریافت اس جنگجو قوم کے نقطہ آغاز کے بارے میں جاننے میں مدد دے سکتی ہے۔

تین سال قبل اس قبرستان کی دریافت ہوئی تھی اور یہاں کھدائی کی تکمیل اتوار کو ہوئی۔ لیون لیوے نے اس مہم کی سربراہی کی۔

اس مہم میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں موجود قبروں میں سے 145 انسانی جسموں کی باقیات کو دریافت کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان قبروں کے گرد خوشبو، خوراک اور زیورات اور ہتھیار موجود تھے۔

یہ باقیات ایسے لوگوں کی ہیں جو 11 اور آٹھویں صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق رکھتے تھے۔

اس تحقیقاتی مہم میں شامل ڈینئیل ایم ماسٹر کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے بعد ہم اس راز کو جاننے کے قریب ہیں کہ ان کا آغاز کیا تھا۔

اس دریافت کو تین سال تک چھپایا گیا جس کی وجہ کھدائی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنانا تھا۔

یہ خدشہ تھا کہ سخت گیر یہودی اس اقدام کی مخالفت کریں گے کیونکہ ان کی جانب سے پہلے مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

مظاہرین نے قبروں کی جگہ کو خراب کرنے کے اس معاملے کو ماہر آثار قدیمہ کےساتھ اٹھایا تھا۔

اب ماہرین کی ٹیم ان انسانی باقیات کے ڈی این اے اور ریڈیو کاربن اور ان کی اصل عمر جاننے کے لیے دیگر ٹیسٹ کر رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ تمام ہی لاشوں کے ساتھ روزمرہ کے استعمال کی چیزیں رکھی گئی ہوں۔

بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی لوگ اسی طرح مر جانے والوں کی تدفین کرتے تھے۔

عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل میں اس قوم کو قدیم اسرائیلیوں کا دشمن کہا گیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 12ویں صدی قبل مسیح مغربی علاقے سے قدیم اسرائیل میں ہجرت کر کے آئے تھے۔

بائبل کے مطابق انھیں جنگجوؤں میں سے ایک گولیاتھ کو نوجوان ڈیوڈ نے بادشاہ بننے سے پہلے شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

ماہرین نے 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کو متنبہ کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے