نوجوانوں کو سبق دینا چاہتے ہیں تو پھرکسی کرپٹ کھلاڑی کیلیے کوئی جگہ نہیں بنتی : گریم سوان

لندن: محمد عامر کی واپسی گریم سوان کو بھی ناگوار گزرنے لگی، سابق اسپنر کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی ساکھ تباہ کرنے والے پیسر لارڈز کی شاندار ٹرف پر چلیں گے تو سخت الجھن محسوس ہوگی، تاحیات پابندی عائد کرنا چاہیے تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی ٹیم کی انگلینڈ آمد پر مقامی میڈیا نے محمد عامر کیخلاف محاذ کھول لیا تھا، کپتان الیسٹر کک نے اپنے بیان میں پیسر کو تماشائیوں کے ممکنہ رد عمل سے ڈرایا، بعد ازاں برطانوی نشریاتی ادارے نے سمرسٹ کے خلاف میچ میں عمدہ کارکردگی کو نمایاں کرنے کے بجائے ’’اسپاٹ فکسر‘‘ کی سرخیاں جمائیں، اب سابق اسپنر گریم سوان نے بھی انھیں آڑے ہاتھوں لیا ہے،انھوں نے کہاکہ 2010 میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پیسر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی اجازت ہرگز نہیں ملنی چاہیے تھی۔

ایک اخبار کے لیے کالم میں انھوں نے تحریرکیاکہ محمد عامر جمعرات کو لارڈز کی شاندار ٹرف پر چلیں گے تو مجھے یہ دیکھ کر سخت الجھن محسوس ہوگی، پیسر نے کھیل کی اخلاقیات کو تار تار کیا، افسوس ہے کہ اس کے باوجود انھیں ایک بار پھر کرکٹ کے گھر میں کھیلنے کی اجازت دیدی گئی، کرپشن میں ملوث ہونے کے بعد پیسر پر تاحیات پابندی عائد کردینا چاہیے تھی۔

گریم سوان نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے حکام عامر پر تاحیات پابندی لگا کر دنیائے کرکٹ کے گرد مضبوط حصار قائم کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، میں نے عامر کو کہتے سناکہ سزا پوری ہونے کے بعد مجرم کو موقع ملنا چاہیے لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے، کیونکہ اگر آپ کرکٹ کی ساکھ بحال رکھنا اور نوجوانوں کو سبق دینا چاہتے ہیں تو پھر کسی کرپٹ کھلاڑی کیلیے کوئی جگہ نہیں بنتی، اگر کوئی 18 سال کا ہے لیکن جرم کیا تو جیل جائے۔

یہ بھی پڑھیں

ورلڈ کپ کے اہم میچ میں عامر کی شان دار بولنگ

ورلڈ کپ کے اہم میچ میں عامر کی شان دار بولنگ

ٹاؤنٹن: ورلڈ کپ 2019 عامر کی شان دار بولنگ، ڈراپ کیچز کے باوجود آسٹریلیا 307 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے