اگر اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو اس دفعہ مقبوضہ فلسطین کے اندر جواب دیں گے، حسن نصر اللہ

سید حسن نصر اللہ نے شہید کمانڈر مصطفی بدرالدین کی مجلس تکریم سے خطاب کیا۔ حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہید مصطفی بدرالدین ان شخصیات میں سے ہے کہ معمولا جن کے بارے میں بات نہیں ہو سکتی، جب یہ شہید ہو جائیں تو ان کے بارے میں بات کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہ کمانڈر خاص قسم کی زندگی گزارتے ہیں، ان کا نام اور تصویر مخفی رہنی چاہیئے۔ یہ خدا کے زمین پر مخفی لیکن آسمان پر معروف سپاہی ہیں، خصوصا ان میں سے ایسے کمانڈر کہ جن کے ذمہ خاص مسلح ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں کہ حاج علاء یا فلان حاج آقا ایسے تھے اور ان کے جانے کے بعد ان کا اصلی نام لوگوں کے سامنے آتا ہے، لوگ ان سے آشنا ہوتے ہیں اور بالاخر وہ زمین پر بھی مشہور و معروف ہو جاتے ہیں۔ سید مقاومت نے شہید کمانڈر کے بارے میں مزید کہا کہ شہید مصطفی بدرالدین لبنان میں اسرائیلی نیٹ ورک کے خلاف اور اس تکفیری گروہ کے خلاف کہ جو ہمارے ملک میں گاڑیوں کے ذریعے خودکش دھماکے کرتے ہیں فاتحانہ انداز میں کام کرتے رہے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ شہید مصطفی بدرالدین عراق میں عراقی مجاہدین کو امریکہ کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیابی سے عمل کرتے رہے اور بالاخر ان کی کوششوں نے امریکیوں کو عراق سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ شہید اپنی آخری جہادی سرگرمیوں میں تکفیری گروہوں کے خلاف شام اور عراق کے مجاہدین کی مدد کرتے رہے۔ آپ کی پوری زندگی اور پوری جوانی اسی راستے میں طے ہو گئی۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ شام نئے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ صیہونی حکومت اور اسکی فضائی فوج کی ہیبت ٹوٹ چکی ہے۔ اس کی دھمکیاں گیڈر بھبھکیاں ہیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سید استقامت نے اسرائیل کے شام کے خلاف متعدد فوجی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے گولان کی پہاڑیوں پر شام کی طرف سے دیئے گئے میزائل حملے کے صورت میں فوجی جواب کا ذکر کیا اور کہا کہ صیہونی حکومت نے (اس جواب کے بعد) اپنے فضائی آپریشن اور نقل و حرکت کا انداز تبدیل کر لیا ہے اور اگر ایک دفعہ پھر اس کو یہ خیال آیا کہ شام کے خلاف فوجی ایکشن لے تو اس دفعہ اس کا جواب مقبوضہ فلسطین کے اندر سے وصول کرے گا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے امریکی صدر کے فلسطینوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کر دیا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جلد ہی اس صدی کے اہم ایگریمنٹ کا اعلان کرے۔ عرب ممالک میں سے جو بھی اس معاملے کے مخالف ہوں ان کے خلاف کاروائی ہو گی۔ اس معاملے کے نتیجے میں فلسطینی مہاجر اپنی سرزمین میں واپس نہیں آسکیں گے، فلسطین کو غزہ کی پٹی تک محدود کر دیا جائے گا اور نتیجتاً عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے رابطے استوار کر لیں گے۔ سید حسن نصر اللہ نے فلسطینی عوام، پارٹیوں اور استقامتی بلاک کو مزاحمت کی دعوت دی ہے اور کہا کہ فلسطین کو کسی چیز پر دستخط نہیں کرنے چاہیں اور اس چیز کو جان لیں کہ ٹرمپ، نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کی مثلث فلسطین کو کمزور کرنے کی مثلث ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی نابودی پوری مثلث کی نابودی ثابت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

جرمن چانسلر انجیلا مرکل رواں برس دنیا کی سب سے بااثر خاتون قرار پائی

جرمن چانسلر انجیلا مرکل رواں برس دنیا کی سب سے بااثر خاتون قرار پائی

نیویارک: متعدد شعبوں کی فہرست مرتب کرنے والے ادارے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ عالمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے