اطلاعات، سفارتکاری، فوج اور معیشت بنیادی ستون بن چکے ہیں، جنرل زبیر محمود حیات کے بیان سے نئی بحث نے جنم لے لیا

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف جعلی خبریں منظم انداز میں پھیلائی جا رہی ہیں تاہم مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان سمٹ سے خطاب کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ پاکستان سمٹ درست وقت میں درست اقدام ہے، آج کے دور میں اطلاعات، سفارت کاری، فوج اور معیشت 4 بنیادی ستون بن چکے ہیں، اطلاعات آج کی طاقت ضرور ہے مگر اس کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے، پاکستان کے بارے میں جان بوجھ کر غلط تاثر قائم کیا گیا، پاکستان کے خلاف منظم انداز میں جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، دنیا کا کوئی مجرم کوئی جرم کرے، عالمی ہیڈ لائنز نہیں بنتی لیکن پاکستانی مجرم کچھ کرے تو شہ سرخیاں کیوں بنتی ہیں۔؟ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا کہنا تھا کہ مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے، سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے، پاکستان 2020ء میں دنیا کی اٹھارہویں معیشت بننے جا رہا ہے، پاکستان کا چہرہ ڈاکٹر عبد الستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ، ملالہ یوسف زئی اور ارفع کریم جیسے لوگ ہیں۔ آگے آئیے اور دنیا کو بتائیے کہ پاکستان کی مثبت فہرست منفی فہرست سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ پاکستان کچھ اعلیٰ طبقات کے لیے نہیں بنا تھا، پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے۔ سرد جنگ کے بعد پاکستان کو سیاسی و ثقافتی عالمگیریت کا سامنا ہے، پاکستان نے 83 ہزار شہدا اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی قربانی دے کر القاعدہ کو خطے سے نکال باہر کیا، دنیا کا کوئی ملک ہماری کامیابیوں کے قریب سے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ پاکستان کو انتہا پسندی، گورننس اور سیکیورٹی کے کچھ مسائل ہیں مگر کیا یہ بھارت کو نہیں، بھارت میں صرف گینگ ریپ کیسز کو ہی دیکھ لیں تو سمجھ آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

یکم جولائی, سے, گیس کی, قیمتوں میں 200 فیصد ,اضافہ, کرنے کا فیصلہ

یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن نے گھریلو گیس صارفین کیلیے پہلی سلیب میں گیس کی قیمتوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے