کارگل کے بہادر سپوت کیپٹن کرنل شیرخان کا یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے

اسلام آباد : پاکستان کی تاریخ شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کرنے والے سیکڑوں جوانوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ کارگل کے محاذ پر پانچ چوکیاں قائم کر کے اپنی بہادری سے ملک عزیز کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا آج سترہواں یوم شہادت منایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کیپٹن کرنل شیر خان شہید (1970–1999) پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک گاوں نواں کلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999ءمیں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر حاصل کیا۔

کیپٹن کرنل شیر خان نے 14 اکتوبر 1994ءمیں پاک فوج میں شمولیت اختیارکی تھی۔ شیر خان شہید نے کارگل کی جنگ میں بے پناہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

انہوں نے اپنے مٹھی بھر جوانوں کے ہمراہ گلتیری کے مقام پر 17000 فٹ کی بلندی پردفاعی نوعیت کے پانچ انتہائی اہم مورچے قائم کیے اور پھر انتہائی جانفشانی سے ان کا دفاع کرتے رہے۔

کئی ناکام کوششوں کے بعد بھارتی افواج نے 5 جولائی 1999ءکو دو بٹالین اور بھاری توپ خانے کے ہمراہ حملہ کیا اور ان کے ایک مورچے کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا۔ انتہائی بھاری گولہ باری کے باوجود شیر خان نے جوابی حملہ کیا اور اپنے مورچے کی قبضہ شدہ جگہ واپس چھین لی۔ اسی جدوجہد میں وہ گولیوں کی زد میں آگئے اور جام شہادت نوش کیا۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے