عدالتوں کا کام حکومت چلانا نہیں، میرا کام عدالتیں چلانا نہیں، وزیراعظم نے پھر دائرے بتادیئے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاست دان کی بھی جج اور جرنیل جتنی عزت ہونی چاہیے۔ سیالکوٹ پسرور سڑک کو 2 رویہ کرنے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جتنی عزت ایک جج، جرنیل اور سرکاری افسر کی عزت ہے اتنی ہی عزت سیاست دان کی بھی ہونی چاہیے،فیض آباد دھرنے کے دوران وزیر قانون زاہد حامد نے استعفیٰ دیا حالانکہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا، میں نے انہیں منع کیا لیکن انہوں نے پھر بھی استعفی دے کر شرافت اور خدمت کی سیاست کا معیار قائم کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس ملک میں سیاست دان کی عزت نہیں ہوگی وہ ترقی نہیں کرسکتا، جتنی ایک جج، جرنیل، اور حکومتی اہلکار کی عزت ہے اتنی ہی سیاست دان کی بھی عزت ہونی چاہیے، ملک کو چلانے اور معاملات کو حل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ کام سیاست دان کے حوالے کیا جاتا ہے، خواجہ آصف نے 30 سال ملک کی خدمت کی، ایک ویزے پر ساری زندگی کےلیے سیاست دانوں کو نااہل کریں گے تو یہ ملک کے حق میں نہیں، ہم نے عدالتی فیصلے قبول کیے اور سر آنکھوں پر رکھے لیکن تاریخ اور عوام ایسے فیصلے قبول نہیں کرتے اور انہیں مسترد کردیتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شیشے کے گھر میں سیاست دان رہتا ہے، وہ سب کچھ برداشت کرتا ہے اور ملک کی خدمت کرتا ہے، یہی سیاست دان ملک کے لیے محنت کرتے ہیں، عوام کے سامنے ہر 5 سال کے بعد پیش ہوتے ہیں، صرف سیاست دان کا احتساب ہوتا ہے لیکن کسی اور کا نہیں ہوتا، ملک کی ترقی کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ووٹ کو اور سیاست دان کو عزت دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے، کوئی اور فیصلہ کا اختیار رکھتا ہے نہ ہونا چاہیے، آئین واضح ہے عوام جو بھی فیصلہ کریں پانچ سال تک اس کی عزت ہونی چاہیے، پی ٹی آئی سمیت سب کے پاس حکومتیں تھیں لیکن کام صرف ن لیگ نے کیا، تقریریں کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ آپ بھی پانچ سال کام کر دکھاتے، کیا مشرف اور زرداری کے پاس وسائل نہیں تھے، سی پیک پہلے نہیں شروع ہوسکتا تھا، ان کے پاس بھی یہی وسائل تھے لیکن تمام منصوبے ن لیگ نے شروع کیے، ہم نے اپنی جیبیں نہیں عوام کی جیبیں بھریں، جی ڈی پی 3 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کردی۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ مجھے وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے 8 ماہ ہر ہفتے کئی کئی سو ارب روپے کا افتتاح کرتا ہوں، 20، 30 سال سے زیر التوا منصوبے مکمل کیے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، تقریریں کرنے والوں نے 5 سال گزرنے کے بعد 11 نکات پیش کردیے، ہم نے نکات پیش نہیں کیے بلکہ کام کیا، ن لیگ کو کسی نکات کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کام کی بنیاد پر کھڑے ہیں، صرف ن ہی لیگ ملک کا درد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکمران کشمیر کو بیچ چکے ہیں

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکمران کشمیر کو بیچ چکے ہیں

لاہور: سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت روزانہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے