صحافت کا شعبہ مارشل لاء کی زد میں ہے، سینیٹر عثمان کاکڑ کے بیان پہ ہنگامہ برپا

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ صحافت آج خطرات سے دوچار ہیں۔ صحافیوں کو پارلیمنٹ اور جمہوریت کے بارے میں آزادانہ طور پر حقیقی رپورٹنگ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی صحافیوں پر تشدد کے واقعات کی مذمت کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، جو حکومت کی اچھی اور بری کارکردگی سے عوام کو باخبر اور آگاہ کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے میڈیا آج خطرات سے دوچار اور غیر اعلانیہ مارشل لاء کی زد میں ہے۔ ایک طرف غیر جمہوری قوتیں میڈیا کو نشانہ بنا رہی ہے، تو دوسری جانب دہشتگردوں کی زد میں ہے۔ لال حویلی کی تقریر تو ایک گھنٹہ نشر کی جاتی ہے، مگر قبائلیوں کی آواز اور پشتون، بلوچ کے مسائل ایک سیکنڈ بھی نشر نہیں کی جاتی ہے۔ اس نارواء عمل اور بندش کیخلاف پارلیمنٹرین اور صحافیوں کو ملک گیر احتجاج کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے