ایس ایس پی تشدد کیس میں عمران خان بری، نواز شریف کا اظہار شکوہ

ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کو بری کر دیا ہے، جس پر سابق اور مسلم لیگ نواز کے نااہل صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ جن کو اندر ہونا چاہیئے، انہیں بری کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد انسداد دہشت گری کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کی سربراہی میں ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر چئیرمین تحریک انصاف عدالت میں پیش ہوئے جہاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو بری کر دیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2014ء کے دھرنے کے دوران ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سے متعلق کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ 10 اپریل کو محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ 25 اپریل کو سنایا جائے گا تاہم گزشتہ سماعت پر عمران خان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر بریت کی درخواست پر فیصلہ موخر کردیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2014ء میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران عمران خان سمیت تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں پر ایس ایس پی عصمت جونیجو تشدد کیس، پی ٹی وی اور پارلیمان حملہ کیس سمیت 4 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

دوسری جانب اس عدالتی فیصلے کیخلاف نواز شریف نے کہا ہے کہ جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں، سابق اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جن کو سزا ہونی چاہیے تھی وہ بری ہو رہے ہیں اور جن کو بری ہونا تھا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نہ عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلا لیکن انہیں بری کردیا گیا جب کہ مجھے بیوی کی تیمارداری کرنے کے لیے جانے کی اجازت نہیں ملتی، عوام کے محافظوں پر تشدد کرنے والوں کو بری کرنے سے کیا تاثر جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو سزا ہونی چاہیے تھی وہ بری ہورہے ہیں جب کہ جن کو بری ہونا تھا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں صاف اور شفاف الیکشن کرائیں گے تاہم اب صاف اور شفاف الیکشن والی باتوں سے دل اٹھ گیا جب کہ لاہور جلسے میں ناکامی پر عمران خان نے الیکشن کے التوا کی بات کی۔ صحافی کی جانب سے عمران خان کے بری ہونے کے سوال پر مریم نواز سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے حکم آیا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

4 صوبوں میں مزید اضافہ کرکے 8 صوبے ہونے چاہیں

4 صوبوں میں مزید اضافہ کرکے 8 صوبے ہونے چاہیں

اسلام آباد: بل میں کہاگیا ہے کہ 4 صوبوں میں مزید اضافہ کرکے 8 صوبے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے