ہتھنی مصنوعی ٹانگ سے چلنے لگی

موشا نامی ہتھنی صرف سات ماہ کی تھی کہ میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر باردي سرنگ پھٹنے سے اس کا ایک ٹانگ ضائع ہو گئی

تھائی لینڈ میں لمپانگ قدرتی پناہ گاہ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک پاؤں کے بغیر سبب موشا کو کئی طرح کے سنگین مسائل درپیش تھے۔

یہ موشا کی نویں ٹانگ ہے، اور ہر ایک کو انجینیئروں کی ایک خصوصی ٹیم نے تیار کیا ہے۔موشا کی سہیلی موٹولا نامی ہتھنی نے بھی بارودی سرنگ کے حادثے میں اپنی ٹانگ کھو دی تھی۔ اسے بھی حال میں نقلی ٹانگیں لگائی گئی ہیں۔

موٹولا سنہ 1999 میں اس وقت بارودی سرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گئی تھی جب سرحد پر اس سے سامان ڈھونے کام لیا جا رہا تھا۔

جانوروں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے موٹولا سنگین چوٹ کی وجہ سے موشا کی طرح نقلی ٹانگ قبول نہیں کر پائی

اب موٹولا کو نئی ٹانگ لگائي جا رہی ہے۔

فرینڈز آف دا ایشیئن ایلیفینٹ فاؤنڈیشن کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنگلوں میں کام کرتے وقت بارودي سرنگوں کی زد میں آ کر موشا اور موٹولا کی طرح بہت سے ہاتھی زخمی ہو جاتے ہیں۔

آج دونوں ہتھنیاں خوشی محسوس کر رہی ہوں گی کیونکہ دونوں اپنے پیروں پر پھر سے کھڑے ہونے کے قابل ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سیلفی ایک نیا نشہ بن چکی ہے

لوگ اپنی انفرادیت ظاہر کرنے اور دوسروں کو متاثر کرنے کےلیے اپنی جان پر کھیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے