شور کم کرنے کے لیے چرچ اور مساجد بند

نائجیریا کے شہر لاگوس میں حکام نے شور کم کرنے کے لیے 70 گرجا گھر اور 20 مساجد بند کرنے کا حکم دیا ہے

اس کے علاوہ حکام نے دس ہوٹلوں، شراب خانوں اور کلبوں کو بھی بند کر دیا ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق لاگوس کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔

حکام کے مطابق وہاں گاڑیوں کے ہارن کے شور، اذان کی آواز اور چرچ میں اونچی آواز میں گانے سے شور میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاست کے حکام نے افریقہ کے اس سب سے بڑے شہر کو سنہ 2020 تک شور سے پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔

اگست میں ریاست لاگوس میں ماحولیات کے تحفظ کے ادارے ایل ای پی اے نے مقامی افراد کی جانب سے شور کی شکایات موصول ہونے کے بعد 22 عمارتوں کو بند کر دیا تھا۔

حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد ادارے کے جنرل مینیجر بولا شہابی نے کہا کہ ایجنسی اب لوگوں کو ٹینٹس اور ان عمارتوں میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دے گی

انھوں نے کہا کہ ’اب شور 35 فیصد کم ہوگیا ہے لیکن ابھی مقررہ ہدف جتنی کمی نہیں ہوسکی ہے۔‘

بولا شہابی کہتے ہیں کہ مساجد کی انتظامیہ نے چرچ انتظامیہ کی نسبت ہدایات پر جلد عمل کیا، کیونکہ جب مساجد اور چرچوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تو مساجد نے فوری طور پر سپیکرز کی آواز کم کی تاکہ شور کم ہو سکے۔

خیال رہے کہ نائجیرین عوام انتہائی مذہبی ہیں۔ شہر میں زیادہ تر آبادی مسیحی برادی کی ہے اور یہاں بہت سے چرچ موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مفاہمتی یادداشت کے کسی ایک مطالبے پر تاحال مکمل عمدرآمد نہیں کیا گیا

مفاہمتی یادداشت کے کسی ایک مطالبے پر تاحال مکمل عمدرآمد نہیں کیا گیا

کراچی: روایتی حریفوں کے اس قریبی تعلق کو ایک سال مکمل ہوگیا نہ تحریک انصاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے