آصف زرداری آپ بھی احتساب سےنہیں بچ سکتے، نوازشریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ تھر میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں تاہم زرداری صاحب آپ بھی احتساب سے نہیں بچ سکتے۔ احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، مجھے اقامے پر نااہل کیا گیا جبکہ ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سے نااہل کیا، مجھے خوشی ہے کہ میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں جو کیا دنیا کو پتا لگ گیا، پنجاب کے مقابلے میں سندھ، کے پی اور بلوچستان دیکھیں، فرق صاف ظاہر ہے، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ترقی کے ایجنڈے پرکام کیا۔ پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جلسہ لاہور کا، مجمع پشاور کا اور ایجنڈا کسی اور کا تھا، یہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے، (ن) لیگ نے اقتدار میں آکر ہمیشہ ترقی کے ایجنڈے پر کام کیا، ہمارے ایجنڈے کو 10، 20 سال مل جائیں تو پاکستان کی تصویر بدل سکتی ہے۔

اسلام آباد میں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے عوامی نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں شہبازشریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز نے شرکت کی، اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حالات سے گھبرانے یا ڈرنے والا نہیں ہوں، مسلم لیگ (ن) پہلے کی طرح متحد اور مضبوط ہے، آئندہ انتخابات حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر لڑیں گے لہذا عوامی نمائندے انتخابی مہم کو تیز کر دیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پورے ملک میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے اور مسلم لیگ (ن) کو جلسوں میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور آیندہ انتخابات میں عوامی عدالت سے بھی سرخرو ہوں گے جبکہ رمضان سے قبل 10 شہروں میں بڑے جلسوں کا پلان ترتیب دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے جب کہ سی پیک منصوبہ عوام کے لیے ہماری حکومت کا تحفہ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا شوق نہیں لیکن حالات سب کے سامنے ہیں، 2013ء اور 2018ء کے پاکستان کےحالات میں بڑا فرق ہے، آصف زرداری اور پرویز مشرف دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے، یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے سے ڈرتے تھے جبکہ سندھ حکومت نے کراچی والوں سے ووٹ لیا لیکن کچھ نہیں کیا بلکہ جو کیا ہم نے کیا، کراچی میں امن قائم کرنا سندھ حکومت کا فرض تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فیصلے سے پہلے ہم نے کراچی میں امن کا فیصلہ کیا، ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی کو چوری، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سے پاک کرنا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ کیا سرخاب کے پر ہمیں ہی لگے ہیں ہم آئیں گے اور ملک کے حالات بہتر کریں گے، صرف عمران خان نہیں سندھ والے بھی بتائیں انہوں نے وہاں کیا کیا، تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں، زرداری صاحب آپ بھی احتساب سے نہیں بچ سکتے، عوام کی خدمت کی اسی لیے مجھے نااہل کردیا گیا، ہفتے میں 5،5 پیشیاں بھگت رہا ہوں، خدمت کا صلہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بکے ہوئے اور خریدے گئے لوگ پہنچ گئے ہیں، اس شخص کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا جس کو اس کے ہمسائے بھی نہیں جانتے، جو کچھ سینیٹ میں ہوا، اب قومی اسمبلی میں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ جو لوٹے کھڑے ہو رہے ہیں انہیں انتخابات میں عبرت کا نشان بنادیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے