کراچی والے جانتے ہیں کہ تاریکیوں اور نسل پرستوں کے دور میں کوئی کھڑا تھا تو وہ صرف پیپلزپارٹی تھی، بلاول بھٹو

کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کراچی کو ابھی لندن والے سے آزاد کرایا ہے اب مستقل قومی مصیبت کے ہر دھڑے سے آزاد کروائے گی۔ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیپلزپارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں پہلے گولی بعد میں بات کا نعرہ لگا کر نفرت ،خوف اور دہشت کو فروغ دیا گیا لیکن آج اس علاقے میں کھڑے ہوکر جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر خطاب کرنے پر خوشی ہے،اہل کراچی کو سلام پیش کرتا ہوں، میں یہاں پیدا ہوا اور یہیں اسکولوں میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ طاقت کے زور پر پیپلزپارٹی کی حمایت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کچھ بھی کہے کراچی والے جانتے ہیں کہ تاریکیوں اور نسل پرستوں کے دور میں کوئی کھڑا تھا تو وہ صرف پیپلزپارٹی تھی، ہمیں یاد ہے کہ گھروں میں گھس کر پی پی کے کارکنوں کو جلا دیا گیا لیکن دیکھ لو ہم فنا نہیں ہوئے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کراچی میں امن قائم ہوچکا ہے ہم نے پہلا مرحلہ مکمل کرلیا اب مستقل امن کے لیے پولیس کو سیاسی بھرتیوں کو پاک کرنا ہوگا،پیپلزپارٹی نے کراچی کو ابھی لندن والے سے آزاد کرایا ہے اب مستقل قومی مصیبت کے ہردھڑے سے آزاد کروائے گی، مستقل قومی مصیبت نے 30 سالوں میں کراچی والوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف کے دور میں ایم کیوایم مافیابن کر حکومت کرتی رہی لیکن کبھی پانی اور بجلی کی کمی کو ختم نہیں کیا، اگر الطاف حسین برا ہے تو اس کے ساتھی اور سہولت کار بھی برے ہیں،اگر الطاف حسین برا ہے تو اس کو چھوڑ کر اپنی دکان چمکانے والے بھی برے ہیں تاہم فیصلہ کراچی کی عوام نے کرنا ہے، ہم الطاف حسین کی سیاست کے پہلے دن سے خلاف ہیں جو اپنے لیڈر کے نہ ہوسکے وہ کراچی والوں کے کیسے ہوں گے۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد کراچی میں صفائی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ہم پورے شہر کو صاف کرنا چاہتے ہیں لیکن اس صفائی کے کام میں ایم کیوایم رکاوٹ بن رہی ہے، ایم کیوایم کراچی کو صاف نہیں دیکھنا چاہتی کیونکہ ان کی سیاست کچرے پر اٹکی ہوئی ہے، ایم کیوایم جانتی ہے کہ اگر شہر صاف ہوگیا تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی، جو لوگ صفائی کے مسئلے پر اکٹھے نہیں ہوسکے وہ کراچی کے بڑے مسائل پر کیسے متحد ہوں گے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سندھ حکومت نے کے ایم سی کو اربوں روپے دیے جن کا کوئی حساب نہیں، پیپلزپارٹی کی حکومت نے میئر کراچی کو اربوں روپے دیئے تاکہ کھل کر کام کریں لیکن جب کوئی ان سے پیسوں کا حساب مانگتا ہے تو وہ اختیارات کا رونا روتے ہیں۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ عمران خان اور الطاف حسین ایک دوسرے کا عکس ہیں ایک ہڑتال کرتا ہے تو دوسرا دھرنا دیتا ہے،پہلے کراچی کو لندن سے بیٹھ کر چلایا جاتا تھا اور اب بنی گالا سے چلانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں،عمران خان وہ شخص ہے جس نے کراچی والوں کو زندہ لاشیں کہا تھا اور اب اسی شہر سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو ووٹ کی عزت کے نام پر عزت نہیں مل سکتی اگر آپ مزدوروں، خواتین ،اقلیتوں ،آئین وقانون ،پارلیمان اور عوام کی عزت کرتے ہوتے تو آپ کو عزت ملتی۔

یہ بھی پڑھیں

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

کراچی: سینئر عہدیداروں نے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈریپ کے کام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے