اگر افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے ہیں تو بارڈر مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے

حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے ہیںتو اس کے لیے بارڈر منجمنٹ انتہائی ضروری ہے ،یہ کام 20سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا تاہم اب یہ انتہائی ضروری ہوچکا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کا واحدحقیقی سٹریٹجک پارٹنر ہے لیکن اس وجہ سے وہ بھارت کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افغانستا ن میں کوئی بھی پسندیدہ گروہ نہیں ہونا چاہیے ،افغانستان کے مختلف گروہ اپنے معاملات خود ٹھیک کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امن لانا ہے تو پاکستان اور افغانستان کو الزام تراشی سے نکلنا ہو گا اور بارڈر مینجمنٹ کرنی پڑے گی ،بارڈر مینجمنٹ پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے ،اس کے لیے کسی قسم کا دباﺅ قبول نہیں کرنا چاہیے۔حنا ربانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں بھارت سے زیاد ہ افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنا ضروری ہے ،دونوں ملکوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے بارڈر مینجمنٹ کرنا ضروری ہے اور افغان مہاجرین پر پاکستان کو مستحکم پوزیشن لینی پڑے گی،افغان امن عمل میں پاکستان اپنا پورا کردار ادا کرے ۔انہوں نے کہاکہ اسامہ بن لادن اور ملا اختر منصورکا پاکستانی سر زمین سے نکلنا بڑی بد قسمتی ہے ، کوئی بھی ملک اپنی زمین استعمال نہیں ہونے دیتا ،ہمیں اپنی سر زمین پر بلا تفریق عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کرنی چاہیے ۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بھارت تعلقات میں گرمجوشی پاکستان کے لیے نہیں بلکہ چین کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے ہے ۔حنا ربانی نے کہا کہ ویسے تو بہت سے ملک پاکستان کے سٹریٹجک پارٹنر ہیں لیکن حقیقی سٹریٹجک پارٹنر چین ہی ہے،لیکن چین پاکستان کے لیے بھارت سے تعلقات خراب نہیں کرسکتا ۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دنیا کو خبردار کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے