خواجہ سراؤں سے نکاح جائز قرار، مفتیان کرام کا فتویٰ جاری

خواجہ سراؤں سے نکاح شرعی طور پرجائز قرار دے دیا گیا۔ جسمانی طور پر زنانہ اور مردانہ علامات رکھنے والے خواجہ سراؤں سے نکاح جائز ہے، لاہور میں پچاس مفتیان کرام نے فتوی جاری کردیا.

تفصیلات کے مطابق لاہور کے پچاس مفتیان کرام کی تنظیم اتحاد امت کے مشترکہ شرعی فتوے میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورتیں ایسے خواجہ سراؤں سے نکاح کر سکتے ہیں جن میں مرد یا عورت کی واضح علامات پائی جاتی ہوں.

فتوے میں کہا گیا ہے کہ واضح علامات والے خواجہ سراؤں سے عام مرد اور عورتیں بھی نکاح کر سکتی ہیں، تاہم ایسے خواجہ سرا جن میں زنانہ اور مردانہ دونوں صفات پائی جائیں، انہیں شریعت نے خثنیٰ مشکل کہا ہے، ان سے کسی مرد اور عورت کا نکاح ہرگز جائز نہیں ہے۔

مفتیان کرام کے فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنا غیرشرعی فعل ہے۔ اس سے اجتناب کیا جائے

یہ بھی پڑھیں

قصور سے اغواء تین بچوں کی لاشیں مل گئیں

قصور سے اغواء تین بچوں کی لاشیں مل گئیں

قصور کے علاقے چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران اغواء ہونے والے تین بچوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے