حج کرنے کیلئے 37سال کا انتظار لازمی

ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار حج ضرور کرے اور اس مقصد کے لئے وہ اپنے ملک میں متعلقہ حکام کو درخواست بھی دیتا ہے اور اس کا نام آنے کے بعد وہ یہ سعادت حاصل کرتا ہے۔پاکستان میں بھی لوگ ہر سال اس عمل سے گزرتے ہیں اور ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال بعد ان کا نمبر آجاتا ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیاءمیں لوگوں کو حج کرنے کے لئے 37سال کا انتظار لازمی ہے۔
انڈونیشین مسلم ایسوسی ایشن برائے حج و عمرہ کے چئیرمین جوکو اسمورو کا کہنا ہے کہ اس وقت 32لاکھ انڈونیشین مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے انتظار کررہے ہیں۔انڈونیشیا کی آبادی 22کروڑ ہے اور لوگوں کو اللہ کا گھر دیکھنے کا بہت شوق ہے اور ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ حج پر جانے کے لئے پہلے رجسٹریشن کرواکر رکھیں۔اسمورو کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد انتظار کی اوسط 37سال ہے، جس کی وجہ سے عمرے کو فوقیت دیتے ہیں جس میں انتظار کا وقت کم ہے۔انڈونیشیاءمیں اس وقت 3500ٹریول ایجنسیاں کام کرہی ہیں جس میں سے 668کو عمرہ کروانے کی اجازت ہے اور صرف 200کو سعودی حکومت کی جانب سے حج کروانے کی اجازت ہے۔حج اور عمر زائرین کو مقامات مقدسہ لے جانے کے لئے چار ایئر لائنز کام کررہی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ وی وی آئی پی حج کی لاگت 8000ڈالر(8لاکھ رپے) ہے اور صرف 17ہزار لوگ اس مہنگے پیکج کی استطاعت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے