اٹلی کے سابق رکن پارلیمنٹ کی بیٹی کا قبول اسلام

اٹلی کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کی بیٹی نے اسلام قبول کرلیا۔ رکن پارلیمنٹ نے بیٹی کے قبول اسلام کو ایک ’شدت پسند مذہب کی طرف رجحان‘ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

بائیس سالہ میولا فرانکو باربرٹو لورینٹلے ڈی نپولی یونیورسٹی کی طالبعلم ہیں اور انہوں نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام عائشہ رکھا ہے۔ عائشہ کے والد فرانکو باربرٹو نے بیٹی کے اس فیصلہ پر سخت تشویش ظاہر کی۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسلام پر بنیاد پرست اور کٹر مذہب ہونے کا الزام عائد کیا۔

نہوں نے کہا، ’یہ تبدیلی نہ صرف بری ہے بلکہ خوفناک بھی ہے، اسلام ایک شدت پسند اور بنیاد پرست مذہب ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ عبادت کرتے ہوئے اپنے بچوں کی طرف بھی دھیان نہیں دیتی چاہے وہ رو ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ مجھے اپنی بیٹی کے فیصلے سے سخت تکلیف پہنچی ہے‘

عائشہ نے فیس بک اکاؤنٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سر ڈھانپنے کو خدا نے میرے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ خدا کا قانون ہے۔ میں اسے نہ ماننے والی کون ہوتی ہوںرکن پارلیمنٹ کی بیٹی کے قبول اسلام کو ملک بھر میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں پیرس، برسلز اور اورلینڈو میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کے باعث ایک طرف تو مسلمانوں کو یورپ میں سخت مشکلات کا سامنا ہے دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو اسلام کی اصل روح کو سمجھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایران پر حملے کی امریکہ میں مخالفت

ایران پر حملے کی امریکہ میں مخالفت

سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر امریکی عوام ایران کے خلاف فوجی حملے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے