چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا بیٹا لاپتا،شہرکی ناکہ بندی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ لاپتا ہوگئے، نامعلوم افراد انہیں اپنے ساتھ کار میں بٹھا کر لے گئے، وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شہر بھر کی ناکہ بندی کا حکم جاری کردیا۔

رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ افطار کے بعد کلفٹن گئے جہاں سپر مارکیٹ کے باہر کار سوار چار افراد انہیں اپنے ساتھ زبردستی بٹھا کر لے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کار سوار چاروں افراد نے پولیس کیپ پہن رکھی تھیں۔

ان کے غائب ہونے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر بھر کی ناکہ بندی کا حکم دے دیا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس شاہ کی گاڑی پنجاب چورنگی ڈیفنس پر واقع سپر اسٹور کے باہر سے مل گئی تاہم اویس شاہ کے بارے میں مزیدکوئی اطلاع اب تک موصول نہیں ہوسکی۔

معلوم ہوا ہے کہ اویس شاہ  خود بھی سندھ ہائی کورٹ میں وکالت کے فرائض فرائض انجام دے رہے ہیں، انہیں کسی بھی معاملے میں کسی قسم کی دھمکیاں موصول نہیں ہوئی تھیں اس لیے ان کے ساتھ کوئی سیکیورٹی گارڈ بھی نہیں تھا۔

چیف جسٹس کے بیٹے کو لے جانے والی گاڑی کی فوٹیج حاصل کرلی جس کے مطابق ایک سفید رنگ کی کار میں انہیں لے جایا گیا جس پر ایس پی 0586 کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی، ایک اور فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اویس شاہ سپر اسٹور میں شاپنگ کررہے ہیں بعدازاں وہ گیٹ سے باہر نکل گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی نمبر پلیٹس سندھ پولیس کی گاڑیوں پر لگی ہوتی ہیں تاہم تحقیقات کے بعد ہی حتمی معاملہ سامنے آسکے گا۔

سندھ پولیس کے ترجمان کا کہناہے کہ نو بج کر دس منٹ پر اغوا کی اطلاع ملی، ان کی گاڑی کا نمبر اے زیڈ ٹی 535 ہے جو سپر اسٹور کے باہر سے کھڑی مل گئی،مبینہ طور پر اویس شاہ کو اغوا کیا گیا وزیراعلیٰ نے شہر بھر کی ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے  جس کے تحت کراچی میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کردی ہے۔

اس معاملے میں گورنر سندھ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اویس شاہ کی بازیابی کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کا 72 واں جشن آزادی

ملک بھر میں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے آج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے