اسرائیل نے فلسطینیوں کا پانی بند کردیا، روزے دار بوند بوند کو ترس گئے

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے رمضان المبارک میں مغربی کنارے کے بیشتر حصوں کا پانی بند کردیا۔ ایک برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے سخت گرمی اور رمضان المبارک میں فلسطینیوں کو مذہبی فریضہ روزہ کی ادائیگی کے دوران صاف پانی کی سہولت سے محروم کردیا ہے۔ مذکورہ علاقے کا درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلسطین کے علاقے جنین، جس کی آبادی 40 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی اسرائیل کی قومی واٹر کمپنی میکوروٹ کی جانب سے بند کی گئی ہے۔ جنین میں مہاجرین کا کیمپ بھی ہے، جو 1953ءمیں قائم کیا گیا تھا اور اس میں رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد 16 ہزار ہے۔ فلسطینی ہائیڈرولوجی گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمان رابی نے بتایا کہ کچھ علاقوں کیلئے گزشتہ 40 روز سے پانی بند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لوگوں کو پانی خریدنا پڑرہا ہے یا وہ دیگر مقامات سے پانی کے حصول کے لئے سخت گرمی میں قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ جنین کی میونسپل انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے پانی کی بندش کا سامنا ہے، ان علاقوں میں نابلس کے کئی دیہات، شہر سلفیت اور اس کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں بسنے والے دو لاکھ فلسطینیوں کو پانی کے حصول کیلئے اجازت لینا پڑتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے کل پانی کا 80 فیصد یہودی استعمال کرتے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے حصے میں صرف 20 فیصد پانی آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے