پاک افغان کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا نہیں کریں گے

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان  نے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی خاطر پاکستان اور افغانستان کو موجودہ کشیدگی اور اپنے معاملات خود ہی حل کرنے ہوں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں

کہا کہ ’’ خطے میں امن و امان کی خاطر دونوں ممالک کو جارحانہ رویہ ترک کرنا ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے دونوں ممالک خود کردار ادا کریں اور اپنے معاملات کو حل کریں، ان معاملات میں امریکا کسی صورت ثالث کا کردار ادا نہیں کرے گا۔

یاد رہے افغان فورسزکی جانب سے 13 جون کو بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں ایک پاکستانی میجر جواد علی چنگیزی شہید اور آرمی جوانوں سمیت سینکڑوں شہری زخمی ہوئے تھے۔

ان جھڑپوں سے امن عمل کو کتنا نقصان ہوگا تاحال کچھ کہا نہیں جاسکتا مگر ایسی پالیسوں سے دہشت گردوں کو منظم ہونے کا موقع حاصل ہوگا

پاک فوج کی جانب سے پیش قدمی دیکھتے ہوئے افغان حکام نے مسلسل چار روز تک جاری فائرنگ کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سے طورخم بارڈر پر کشیدگی میں کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

ماسکو: روس اور چین نے امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے