ایم فل پاکستانی نوجوان کا اپنا گردہ فروخت کرنے کا اعلان ,وجہ کیا بنی ؟ جان کر آپ کا دل بھی خون کے آنسو روئے گا

اعلیٰ تعلیم ماسٹرز کی ڈگری اور ایم فل کرنے والا نوجوان پدم میگھواڑ غربت، بےروزگاری اور قرضوں کی وجہ سےاپنا ایک گردہ فروخت کرنے پر مجبور ہوگیا، پدم میگھواڑ نے اپنا گردہ فروخت کرنے کا اعلان کردیا جبکہ کسمپرسی کی وجہ سے غریب پدم میگھواڑ کے بوڑھے والدین کو اپنے ارمان ادھورے رہ جانےکا ڈر ہے ۔تفصیلات کےمطابق عمرکوٹ ضلع کے شہر ڈھورونارو کے گاؤں حاجی بلاول ہالیپوٹہ کا رہائشی نوجوان پدم میگھوا کو ماں باپ نے اپنا مستقبل سنوارنے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے سندھ یونیورسٹی حیدرآباد بھیجا تھا،اعلیٰ تعلیم کے آخری مراحل میں موجود نوجوان پدم میگھواڑ نے غربت ،بےروزگاری اور اہلخانہ کو سود خوروں کی جانب سے پریشان کیے جانے کے بعد اپنا ایک گردہ فروخت کرنے کا اعلان کردیا ہے اور گردہ فروخت کرنے کی سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کر دی۔رابطہ کرنے پر ” ڈیلی پاکستان "کو ڈھورونارو پریس کلب کے سینئر صحافی نندلال میگھواڑ نے بتایا کہ پدم میگھواڑ کی فیملی انتہائی غریب ہے، چند سال قبل خوشحال تھی، کام چل رہا تھا مگر کچھ وقت سے پدم میگھواڑ کی فیملی ا متحان میں ہے ،پدم کے آٹھ بھائی اور دو بہنیں ہے ،اس وقت اس گھر پر غربت افلاس بےروزگاری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، انتہائی مجبوری اور غربت کے باعث پدم کے اہلخانہ سود خوروں کے قرضے تلے دب چکے ہیں۔صحافی ننددلال میگھواڑ نے بتایا کہ سود خوروں نے ان کا جینا محال کردیا ہے، وہ اپنا سود وصول کرنے کے لیے ان کے گھروں پر چکر پر چکر لگاتے ہیں ،صرف پدم میگھواڑ کے والد کمانے والے ہیں اور ان کی تنخواہ بھی سود کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ پدم میگھواڑ انتہائی ذہین اور محنتی نوجوان ہے ،ایم فل کی تعلیم آخری سٹیج پر ہے لیکن معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنا گردہ فروخت کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایسا بلڈ ٹیسٹ تیار کیا ہے جو اگلے 10 برسوں میں کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی کرسکے گا

ایسا بلڈ ٹیسٹ تیار کیا ہے جو اگلے 10 برسوں میں کسی فرد کی موت کے امکانات کی پیشگوئی کرسکے گا

ان بائیو میکر پر کیے جانے والے تجربات کے دوران 2 سے 16 برسوں کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے