سعودی ولی عہد کی امریکا میں اسرائیل گروہوں سے ملاقات

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ امریکا کے دوران انتہائی دائیں بازو کے یہودی اداروں کے رہنماﺅں سے ملاقات کی ہے, ان گروہوں میں امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، اسٹینڈ اپ فار اسرائیل (اے ڈی ایل اور جیوش فیڈریشن آف نارتھ امریکا شامل ہیں۔ اس گروہ میں شامل تنظیمیں پرامن فلسطینی تحریک، بائیکاٹ ڈائیویسمنٹ اینڈ سیکشن (بی ڈی ایس) کیخلاف اور فلسطین میں غیر قانونی تعمیرات کے لئے کروڑوں ڈالر کی امداد دے چکی ہیں۔اسرائیلی میڈیا نے سعودی ولی عہد کے سفرنامے کی افشاءہونے والی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان نے امریکن جیوش آرگنائزیشن کانفرنس آف پریزیڈنٹس، یہودی سول ادارے بنائی برث اور امریکن جیوش کمیٹی کے رہنماﺅں سے بھی ملاقات کی۔ اسرائیل کے حامی چند امریکی گروہ بی ڈی ایس ایکٹ کیخلاف کروڑوں ڈالر خرچ کرچکے ہیں۔ سعودی عرب نے باقاعدہ طور پر کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے تاہم تجزیہ کار بارہا کہہ رہے ہیں کہ محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیل کیساتھ دوستانہ تعلقات کے آغاز کی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے بدھ کے روز نیویارک میں یہودی ربیوں اور کیتھولک عیسائی رہنماﺅں کے ایک گروپ سے ملاقات کی تھی جس کا مقصد بین المذاہبی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں برداشت کی اہمیت، بقائے باہمی اور انسانیت کے بہتر مستقبل کے لئے مل کر کام کرنے پر زور دیا گیا۔سعودی سفارتخانے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہی مذاکرات کے فروغ اور تمام مذاہب کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل روک دے گا

برطانیہ سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل روک دے گا

لندن: وزراء کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل روکنےکا وعدہ عدالت میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے