وزیراعظم چیف جسٹس ملاقات الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی، خورشید شاہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ اداروں کے سربراہان کے درمیان ملاقاتیں ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں لیکن ہر ملاقات اور فیصلے کا ایک وقت ہوتا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے وزیر اعظم کی ملاقات نہیں ہونی چاہیے تھی اور یہ بیک فائر کرے گی جو خطرناک ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کو ملنا ہی تھا تو خفیہ ملاقات کرتے، اس ملاقات کے بعد اب چیف جسٹس دفاعی انداز اختیار کریں گے کیونکہ ملاقات کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان کئی معاملات پر بات ہوئی ہے۔

نئے این آر او سے متعلق قائد حزب اختلاف نے کہا کہ این آر او ہو یا جوڈیشل این آر او پر بات نہیں کروں گا، نیا این آر او آئے گا یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، این آر او کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب ادارے کمزور ہوں، ادارے اور سسٹم مضبوط ہونے سے این آر او کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہمیں ملک میں سسٹم، اداروں اور عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

راولپنڈی: مہناز سعید کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں انہیں غیر قانونی سہولیات فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے