مصر کے لاپتہ طیارے کا ملبہ بحیرۂ روم سے مل گیا

مصر کی تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ لاپتہ ہونے والے ایجپٹ ایئر کے مسافر طیارے کا ملبہ بحیرۂ روم سے مل گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاز کے ملبے کے اہم حصوں‘ کا پتہ لگایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے گہرے سمندر میں تلاش میں مصروف بحری جہاز نے مسافر طیارہ کے ملبے کی ایک تصویر بھی بھجوائی ہے۔

ایجپٹ ایئر کی پرواز ایم ایس 804 پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے یونان کے جزیرے کیرپاتھوس کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی۔

اس مسافر طیارے میں عملے کے ارکین سمیت 66 افراد سوار تھے۔

ایئر بس 320 نے قاہرہ کو ایئر پورٹ پر 20 منٹ میں لینڈ کرنا تھا لیکن جہاز مصر اور یونان کے ریڈار پر سے اچانک غائب ہو گیا۔ پائلٹ کی جانب سے کوئی مدد بھی نہیں مانگی گئی۔

رواں ماہ کے آغاز میں جہاز کی تلاش میں مصروف ٹیم کا کہنا تھا کہ ’بلیک بکس پہلا سگنل ملا ہے اور فلائٹ ریکاڈر‘ کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔

ماہرین کو خدشہ تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز کے ریکاڈر کے سگنلز 24 جون تک ختم ہو سکتے ہیں۔

جہاز کے حادثے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں

مسافر جہاز کے حادثے میں دہشت گردی کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی بھی شدت پسند تنظیم نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی غلطی یا تکنیکی خرابی بھی حادثے کی وجہ ہو سکتی ہے۔

فلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ ریڈار پر سے لاپتہ ہونے سے چند منٹ قبل جہاز کی بجلی بند ہو گئی تھی۔

یونان کے تفتشکاروں کے مطابق جہاز پہلے 90 ڈگری پر بائیں جانب اور پھر دائیں جانب 360 ڈگری پر گھوما۔

جہاز کی بلندی 11 ہزار میٹر سے کم ہو کر 4600 میٹر ہوئی اور پھر جہاز تین ہزار میٹر کی بلندی پر آنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے