شریفوں نے لندن فلیٹس کی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں، واجد ضیاء

پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے نیب ریفرنس کی سماعت میں بیان قلمبند کرایا کہ شریف خاندان نے لندن فلیٹس کی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ احتساب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پیش ہوئے۔ نیب نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست دائر کی جو عدالت نے منظور کرلی۔ نیب نے عدالت میں اٹارنی جنرل، برٹش ورجن آئی لینڈ اور قطری شہزادے کے خطوط جمع کروانے کی استدعا کی ہے۔ نیب کے گواہ واجد ضیاء نے شریف خاندان کے خلاف گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ 2006ء آف شور کمپنیز سے متعلق قانون سازی کا اہم سال تھا، نئی قانون سازی کے بعد بیریئر شیئرز کی ملکیت چھپانا ممکن نہیں تھا، لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق نواز شریف نے 1993ء سے 1996ء فلیٹس خریدے، ملزمان خود اعتراف کرتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں فلیٹس کا قبضہ حاصل کیا، جب فلیٹس کا قبضہ حاصل کیا گیا تو حسین نواز طالبعلم تھے۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ تمام ملزمان مانتے ہیں کہ فلیٹ نمبر 16 صرف نواز شریف کے زیر استعمال رہا، میاں شریف نے فلیٹ صرف اس وقت استعمال کیا جب وہ علاج کیلیے برطانیہ گئے، ملزمان نے دو ٹرسٹ ڈیڈز جمع کرائیں، جے آئی ٹی کے مطابق دونوں ٹرسٹ ڈیڈ کا صفحہ نمبر 2 اور 3 ایک جیسا تھا، ٹرسٹ ڈیڈز پر تاریخیں تبدیل کی گئی، ملزمان نے ٹرسٹ ڈیڈ پر اووررائٹنگ کرکے 2004ء کو 2006ء بنایا۔ واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں جمع آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوائی، ریڈلے کی رپورٹ کے بعد جے آئی ٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے، مریم نواز نے دو ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائیں جو بقول ان کے اصلی تھیں، فرانزک ٹیسٹ کے بعد جے آئی ٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ بھی جعلی ہیں، مریم،حسین نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے جعلی دستاویزات پر دستخط کرکے سپریم کورٹ میں پیش کیں، حسن نواز نے بھی ٹرسٹ ڈیڈ کی یہی کاپیاں عدالت میں پیش کیں۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے