ٹرمپ کا ہتھیاروں کی فروخت کا قانون سخت کرنے پر زور

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے ممکنہ نامزد اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی پر نظر رکھنے والی فہرست میں شامل افراد کو ہتھیاروں کی خریداری سے روکا جا سکے۔

ونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے جلد ملاقات کریں گے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے لیکن وہ پہلے ہی سے دہشت گردوں کو ہتھیار فروخت کرنے کے مخالف ہیں۔

یاد رہے کے اورلینڈو کے نائٹ کلب میں مسلح شخص کے حملے میں 49 افراد ہلاک ہوئے تھے اور حملہ آور عمر متین ایف بی آئی کی دہشت گردی کی نگرانی کرنے والی فہرست شامل رہ چکے ہیں۔

اورلینڈو واقعے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ ہتھیار رکھنے کے حق کے حامی تھی اور امریکہ کی طاقت ور گنز لوبی نے اُن کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’ میں این آر اے سے ملاقات کروں گا اور وہ مجھے یقین دلائیں گے کہ دہشت گردوں کی نگرانی کی فہرست میں شامل افراد کو ہتھیار فروخت نہ کیے جائیں۔‘

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی نے دہشت گردوں کی نگرانی کرنے کے لیے دو مختلف واچ لیسٹ بنائی ہیں۔

ایک مختصر فہرست میں شامل افراد پر امریکہ اور اُس سے باہر سفر کرنے پر پابندی ہے جبکہ ایک دوسری فہرست میں زیادہ نام شامل ہیں۔ اورلینڈو کلب پر حملے کرنے والے عمر متین بھی اسی فہرست میں شامل تھے۔

عمر متین کو اشتعال انگیر بیانات دینے کے بعد دس ماہ تک ایف بی آئی کی واچ لیسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر اُن کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ’آگر کوئی دہشت گردی کی واچ لیسٹ میں ہے اور بندوق خریدنا چاہتا ہے تو ایف بی آئی کو اس بارے میں مکمل تحقیقات کرنی چاہیے اور جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں ہتھیار فروخت نہیں کیے جانے چاہیے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ میں ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی پر رپبلکن پارٹی نے مخالفت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے