بانی ایم کیو ایم کے خلاف کھڑا ہونے کی سزا دی گئی ہے، فاروق ستار

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی کنوینر شپ سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ’’مینجڈ ‘‘ ہے اور مجھے بانی ایم کیو ایم کے خلاف کھڑا ہونے کی سزا دی گئی ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ووٹرز سے پتنگ چھین کر بہادرآباد کے ساتھیوں کو دی گئی ہے، ایم کیو ایم کے کارکنوں کی اکثریت بہادرآباد والوں کے ساتھ نہیں، ایم کیو ایم پاکستان کےحق پرست اراکین میرے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم کی کنوینر شپ سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ سیاہ فیصلے کے طورپر یاد رکھا جائے گا، الیکشن کمیشن نے غیرمنصفانہ، غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے باقی سب کوعدالت بھیجا ہمیں گھر بھیجنے کی تیاری ہورہی ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ “مینجڈ” ہے، فیصلے سے لگتا ہے نہ صرف دال میں کچھ کالا ہے بلکہ پوری دال کالی ہے۔ مجھے 23 اگست کو بانی ایم کیو ایم کے خلاف اور ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ معاملہ بانی ایم کیوایم کو مائنس کرنے کا نہیں بلکہ اصل سازش ایم کیو ایم پاکستان اور پتنگ کے نشان کو ختم کرنا تھی۔ پارٹی میں میرے خلاف مخالفت ہورہی تھی تو کہا تھا سیاست چھوڑدوں گا، میری والدہ کی منتیں کی گئیں اورمیں سیاست میں واپس آیا.فیصلہ آنے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا تھا کہ 2018 کے الیکشن تک ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے، الیکشن کے بعد انٹرا پارٹی انتخابات کروا کرایک نئی رابطہ کمیٹی بنانی چاہیے، درمیانہ راستہ یہی ہے کہ میں اور خالد مقبول ایک ایڈہاک کمیٹی بنالیں، ہمیں ایک سیاسی اور تنظیمی راستہ نکالنا چاہیے، ایک دوسرے کی پوزیشن کو بے شک نہ مانا جائے، لیکن چیلنج بھی نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں

سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کب لاہور پہنچیں گے؟ بالآخر وہ خبر آ گئی جس کا سب کو انتظار تھا

بھارتی انتہاءپسند تنظیم شیو سینا نے نوجوت سنگھ سدھو کے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا اور ان کے ایک رہنماءنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سدھو کو پاکستان جانے سے پہلے سرحدپر جان دینے والے بھارتی فوجیوں کے گھر جانا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے