الیکشن کمیشن کا فیصلہ ’’مینجڈ‘‘ ہے، الطاف حسین کےسامنے کھڑے ہونیکی سزا دی جا رہی ہے، فاروق ستار

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) فاروق ستار گروپ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی کنوینئر شپ سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ’’مینجڈ ‘‘ ہے اور مجھے بانی ایم کیو ایم کے سامنے کھڑا ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ووٹرز سے پتنگ چھین کر بہادرآباد کے ساتھیوں کو دی گئی ہے، ایم کیوایم کے کارکنوں کی اکثریت بہادرآباد والوں کے ساتھ نہیں، ایم کیو ایم پاکستان کےحق پرست اراکین میرے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم کی کنوینئر شپ سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، الیکشن کمیشن نے غیرمنصفانہ، غیر آئینی اور غیرقانونی فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے باقی سب کوعدالت بھیجا ہمیں گھر بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ “مینجڈ” ہے، فیصلے سے لگتا ہے نہ صرف دال میں کچھ کالا ہے بلکہ پوری دال کالی ہے۔ مجھے 23 اگست کو بانی ایم کیو ایم کے سامنے اور ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ معاملہ بانی ایم کیوایم کو مائنس کرنے کا نہیں بلکہ اصل سازش ایم کیو ایم پاکستان اور پتنگ کے نشان کو ختم کرنا تھی۔ پارٹی میں میرے خلاف مخالفت ہو رہی تھی تو کہا تھا سیاست چھوڑدوں گا، میری والدہ کی منتیں کی گئیں اور میں سیاست میں واپس آیا۔

یہ بھی پڑھیں

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس افسران کو کاروباری یونٹس و کاروباری مراکز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے