پی ایس ایل فائنل: ٹیمیں اسٹیڈیم پہنچ گئیں، گیٹ بند کرنے کا وقت بڑھادیا گیا

کراچی: پاکستان سپر لیگ کے فائنل مقابلے کے لئے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں نیشنل اسٹیڈیم پہنچ گئیں جب کہ گراؤنڈ میں شائقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ پارکنگ ایریاز سے شائقین کو شٹل سروس کے ذریعے اسٹیڈیم لایا گیا جب کہ پارکنگ ایریاز میں رش کے بعد پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کے گیٹ بند کرنے کا وقت بڑھا کر 5 بجے کے بجائے 7 بجے کردیا۔

اب بھی شائقین کی بڑی تعداد پارکنگ ایریاز میں موجود ہے جہاں سے انہیں بھرپور چیکنگ کے بعد اسٹیڈیم کے اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

دفاعی چیمپئن پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں بھی نیشنل اسٹیڈیم پہنچ گئیں اور کچھ دیر بعد تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں گلوکار علی ظفر، شہزاد رائے، آئمہ بیگ، فرحان سعید اور اسٹنگز پرفارم کریں گے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان بڑا ٹاکرا رات 8 بجے شروع ہوگا اور دونوں ہی ٹیمیں جیت کے لئے پرعزم ہیں جب کہ دونوں ٹیموں کے تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کی شرٹس زیب تن کیے سپورٹ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پی ایس ایل فائنل کے مہمان خصوصی ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ، چاروں صوبوں کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو بھی نیشنل اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی دعوت دی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے گراؤنڈ کا فضائی معائنہ بھی کیا اور ہدایات جاری کیں کی شائقین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

شہر قائد میں میلے کا سماں

کراچی میں 9 سال بعد کرکٹ کی واپسی پر شہر بھر میں میلے کا سماں ہے اور ہر کوئی پی ایس ایل فائنل کے جنون میں مبتلا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر میچ دیکھنے کے لئے اسکرینیں لگائی گئی ہیں۔

شائقین کرکٹ کے لیے کراچی میں 7 مقامات پر پارکنگ کا انتظام ہے، انتخاب عالم ، نسیم الغنی ، اقبال قاسم ، محمد برادرز اور وسیم باری انکلوژر کے ٹکٹ ہولڈرز یونیورسٹی روڈ پر اردو یونی ورسٹی اور اس سے متصل گراؤنڈ میں پارکنگ کر رہے ہیں۔

ماجد خان، ظہیر عباس ، عمران خان ، فضل محمود اور جاوید میانداد انکلوژر کے ٹکٹ ہولڈرز ڈالمیا روڈ پر فٹبال گراؤنڈ میں جب کہ وقار حسن، آصف اقبال، وسیم اکرم ، حنیف محمد اور قائد انکلوژر کے ٹکٹ ہولڈرز کے لیے کشمیر روڈ پر کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس میں پارکنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف کی گلیوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے، ملینئم مال سے ڈالمیا جانے والا روڈ اور نیو ٹاؤن اور عیسیٰ نگری سے اسٹیڈیم جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔

نیپا سے جیل چورنگی تک یونیورسٹی روڈ ، کشمیر روڈ اور نیو ایم اے جناح روڈ بھی بند ہے تاہم شارع فیصل، شاہراہ قائدین، راشد منہاس روڈ اور شاہراہ پاکستان کھلی رہیں گی اور شہری ٹریفک پولیس ہیلپ لائن 1915 سے بھی مدد لے سکتے ہیں ۔

اسٹیڈیم میں شائقین کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں اور وی آئی پیز کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا ہے، صاف اور ٹھنڈا پانی مہیا کرنے کے لیے 40 الیکٹرک کولر بھی اسٹیڈیم میں نصب کیے گئے ہیں۔

دونوں ٹیمیں جیت کے لیے پرعزم

پشاور زلمی کی قیادت سابق ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی کررہے ہیں اور مصباح الحق کی غیرموجودگی میں ممکنہ طور پر اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت جنوبی افریقا کے جے پی ڈومینی کے سپرد ہے۔

پشاور زلمی کے کامران اکمل، آندرے فلیچر، لیام ڈاؤسن، کرس جارڈن، وہاب ریاض اور حسن علی اہم ہتھیار ہیں جن پر کپتان ڈیرن سیمی کا انحصار ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیوک رونکی، جے پی ڈومینی، سیموئل بدری، چیڈوک والٹن، اسٹیون فن اور سمت پٹیل وہ غیرملکی کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گزشتہ روز پشاور اور اسلام آباد کی ٹیموں کے کپتانوں نے نیشنل اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس بھی کی، جے پی ڈومنی کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ پر اب تک کوئی میچ نہیں ہوا ہے، دونوں میں سے جو ٹیم بھی وکٹ کو جلد سمجھ لے گی جیت کے امکانات اسی ٹیم کے زیادہ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام لڑکے فائنل کے لیے تازہ دم اور بھرپور طریقے سے تیار ہیں اور میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔

ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ ٹائٹل کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کراچی میں کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کرنے پر خوش ہوں، پاکستان میں کرکٹ کو ہمیشہ انجوائے کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میچ کے بعد دنیا کو بتاؤں گا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھی جگہ ہے اور یہاں کے لوگ بھی بہت پیار کرنے والے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کنٹرول سنبھال لیا

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نیشنل اسٹیڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کے ذریعے اسٹیڈیم کی تلاشی لینے کے بعد اسے کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم میں کنٹرول روم قائم

فائنل مقابلے کے لئے نیشنل اسٹیڈیم میں کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے، اسٹیڈیم کے اندر اور باہر 80 کیمروں کی مدد سے نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے جس کے لئے کنٹرول روم قائم کرتے ہوئے 20 ایل سی ڈیز نصب کر دی گئی ہیں۔

پی ایس ایل فائنل کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کے اردگرد سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

انچارج کنٹرول روم کے مطابق کیمروں کی مدد سے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جائے گا اور اسٹیڈیم سے متصل سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے نمبر بھی کیمروں کی رینج میں ہوں گے۔

لیوک رونکی بمقابلہ کامران اکمل؟

فلڈ لائٹس میں ہونے والے پی ایس ایل تھری کے فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔

اسلام آباد اب تک ٹورنامنٹ کی سب سے مضبوط ٹیم ابھر کر سامنے آئی ہے جب کہ پشاور زلمی دفاعی چیمپئن ہے۔

کپتان مصباح الحق اور فاسٹ بولر رومان رئیس کی انجریز کے باوجود اسلام آباد کی فتوحات کا سلسلہ ٹورنامنٹ میں جاری رہا۔

اسلام آباد کی جانب سے اننگز کا آغاز کرنے والے لیوک رونکی اپنی جارحانہ بلے بازی کے لیے شہرت رکھتے ہیں، اگر ان کی جانب سے جارحانہ آغاز فراہم کیا گیا تو وہ پشاور زلمی کے بولرز کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔

کامران اکمل کی صورت میں پشاور زلمی کے پاس بھی جارح مزاج اوپنر ہیں جو پی ایس ایل میں دو سنچریاں اسکور کرنے والے واحد بلے باز ہیں۔

اس سے قبل ایلیمنیٹر میچ میں کراچی کنگز کے خلاف کامران اکمل کی 77 رنز کی برق رفتار اننگز نے ان کی ٹیم کو بڑے ہدف تک پہنچایا اور جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پشاور زلمی کا پی ایس فائنل تک کا سفر مشکلات سے بھرپور رہا، ایک موقع پر زلمی کے ٹاپ فور میں جگہ بنانے کے بھی امکانات کم تھے تاہم اپنی اختتامی چند میچز جیت کر زلمی آج فائنل مقابلے میں اسلام آباد کے مدمقابل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے 20 کھلاڑیوں کا اعلان

سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے 20 کھلاڑیوں کا اعلان

لاہور:  پی سی بی نے قومی ٹیم کے 20 کھلاڑیوں کو کیمپ کے لئے نیشنل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے