جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان  نے کہا کہ ہم نے بھی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، قسم کھاتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، پاکستان میں صرف آئین کی پاسداری ہوگی، اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے، جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شک نہ ہو انصاف بلا تفریق ہوگا اور اس ملک میں انصاف بلا تفریق ہوتا دکھائی دے گا۔

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیتھڈرل اسکول لاہور میں یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے آزادی کی قدروقیمت اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا راز ہے، میں آج کے دن صرف آپ سے ایک قربانی مانگ رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں کیونکہ جو قومیں تعلیم حاصل نہیں کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قصور سے اغواء تین بچوں کی لاشیں مل گئیں

قصور سے اغواء تین بچوں کی لاشیں مل گئیں

قصور کے علاقے چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران اغواء ہونے والے تین بچوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے