اسکول کے بھاری بیگ بچوں میں گردن اور کمر درد کی وجہ بننے لگے، ڈاکٹر

کراچی: عباسی شہید اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایم ایس) نے اسکول جانے والے بچوں کے بھاری بھرکم بیگوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبی مسائل کی جانب نشاندہی کر ڈالی۔ ڈی ایم ایس نعمان ناصر کی جانب سے سیکریٹری تعلیم اور کراچی کے اسکولوں کی انتظامیہ کو ‘بھاری اسکول بیگ اٹھانے کے خطرات’ کے حوالے سے ایک خط تحریر کیا گیا ہے جس میں بھاری اسکول بیگ سے بچوں کے گردن اور کمر سمیت کندھوں میں تکلیف کی شکایات سامنے آنے کا بتایا گیا ہے۔

ڈاکٹر نعمان ناصر نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ‘ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے میں سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہ کو درپیش بھاری بھرکم اسکول بیگ اٹھانے سے صحت کے مسئلے کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں’۔

ڈاکٹر نعمان ناصر نے کہا، ‘میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ زیادہ تر بچے میرے پاس گردن میں تناؤ اور کندھے اور کمر میں درد کی شکایات لے کر آتے ہیں’۔

جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ‘5 سے 13 سال کی عمر کے بڑھتے ہوئے بچوں کی 35 فیصد تعداد بھاری بیگ اٹھانے کی وجہ سے کمر کے شدید درد کا شکار نظر آتی ہے’۔

ڈاکٹر نعمان نے درخواست کی کہ طلبہ کے بستوں میں وزن کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں اور ایک ایسا سسٹم ترتیب دیا جائے کہ بچے صرف روزانہ کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے مخصوص کتابیں ہی اسکول لے کر جائیں۔

ساتھ ہی انہوں نے تجویز پیش کی کہ اسکول بیگ کا وزن اس طرح بھی کم ہوسکتا ہے کہ طلبہ کو کم سے کم ہوم ورک دیا جائے یا پھر اسکولوں میں لاکرز بنا دیئے جائیں، جہاں بچے اضافی کتابیں حفاظت سے رکھ سکیں۔

ساتھ ہی انہوں نے حکومتی سطح پر اس حوالے سے اقدامات کرنے کی امید کا بھی اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

پزلز بنانا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دماغی صلاحیت کو تیز کرنے کے لیے بہترین

پزلز بنانا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دماغی صلاحیت کو تیز کرنے کے لیے بہترین

وکٹوریہ کالج میں سیمیوٹک اور اینتھروپولوجی کے پروفیسر مارکل ڈانیسی کا کہنا ہے کہ خاص …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے