جوڈیشل مارشل لاء کی بات مارشل لاء سے محبت کرنیوالا ہی کرسکتا ہے، خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ جوڈیشل مارشل لاء کی بات وہی کر سکتا ہے، جو لفط مارشل لاء سے پیار کرتا ہو، ان کا کہنا تھا کہ جو شخص مارشل دور کا حصہ رہا وہی بات کر سکتا ہے۔ جوڈیشل مارشل لاء غیر آئینی ہو گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ آئین میں سب واضح ہے اس سے آگے کوئی نہیں جا سکتا، کوئی آئین سے آگے گیا تو وہ آرٹیکل کے کسی زمرے میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی جوڈیشل مارشل لاء کا مشورہ مان لے تو بغاوت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ کوئی جمہوری آدمی جوڈیشل مارشل کی بات نہیں کر سکتا، مارشل کے حامی یا ان حکومتوں کا حصہ رہنے والے ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے مارشل لاکا ساتھ دیا وہی ایسی باتیں کرتا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری پر نواز شریف سے بات کیوں کروں، میری نواز لیگ سے بھی بات کرنی نہیں بنتی، ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی پارٹی سے مشاورت ضرور کروں گا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اچھے اور بہتر آدمی کا نام کوئی بھی دے سکتا ہے، نگراں وزیراعظم کے تقرر پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کروں گا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کے مستقبل کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، یہاں روز نئی چیز جنم لے رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، کوئی نجومی نہیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں

کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا

کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا

اسلام آباد: وزیر اعظم کی امریکا اور سعودی عرب کے دورے پر بھی مشاورت ہوئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے