7 سالہ بچی سحر بتول کے قاتل کو سزائے موت

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ II کے جج جسٹس غلام صدیق نے 7سالہ معصوم بچی سحر بتول کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم جنید شہزاد کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت، 4 سال قید بامشقت اور مقتولہ کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے ادا کرنے کی سزا سنائی ہے، استغاثہ کی جانب سے کیس کی پیروی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر تیمور شاہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے کی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم جنید شہزاد نے کوئٹہ کے زرغون روڈ پر واقع رہائشی کالونی میں 7سالہ معصوم بچی سحر بتول کو 29 اکتوبر 2014ء کو زیادتی کے بعد گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش کو گھر کے قریب کچرے کے ٹب کے ساتھ پھینک دیا تھا، لاش کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد بچی کے ساتھ زیادتی کا بھی انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد پولیس نے 25 نومبر 2014ء کو بچی کے ساتھ زیادتی اور اسے قتل کرنے کے الزام میں ملزم جنید شہزاد کو گرفتار کیا تھا اور بعدازاں مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ گزشتہ روز عدالت کے جج نے زنا بالجبر کا جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 4 سال قید کی سزا سنائی جبکہ عدالت نے زیردفعات 302 اور 07ATA کے تحت جرم ثابت ہونے پر بھی ملزم جنید شہزاد کو سزائے موت اور مقتولہ کے ورثا کو 2 لاکھ روپے ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ 2 لاکھ روپے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ یاد رہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلیے بچی کی لاش کو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا تھا جس کا اعتراف انھوں نے تفتیش کے دوران بھی کیا تھا، بچی سحر بتول کی والدین اور اہل خانہ نے عدالتی فیصلے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی پر ہم عدلیہ کے شکر گزار ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی، مذہبی جماعتوں نے عدالت کی جانب سے سحر بتول کے قاتل کو سزا دینے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے سحر بتول کے مقدمے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے سحر بتول کے ورثا کو انصاف ملا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کے خاتمے کیلیے انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سفاک اور درندہ صفت لوگوں کی ایسے جرم سے پہلے ہی روح کانپ اٹھے۔

یہ بھی پڑھیں

بگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں واحد ایک روزہ میچ 1996 میں کھیلاگیا تھا

بگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں واحد ایک روزہ میچ 1996 میں کھیلاگیا تھا

کوئٹہ: میزبان ٹیم 28 سے 31 اکتوبر تک خیبر پختونخوا جبکہ 4 سے 7 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے