نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر انڈین فلم کی مثال پیش کرکے سب کو حیران کردیا

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ نیا ریفرنس دائرکرنے کی کیا ضرورت تھی جب پہلے ریفرنس میں کچھ نہیں نکلا اورنئے ریفرنس میں پہلے ریفرنس کا خول چڑھا دیا گیا۔ احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، نئے ریفرنس میں پہلے ریفرنس کا خول چڑھا دیا گیا، نیا ریفرنس دائرکرنے کی کیا ضرورت تھی جب پہلے ریفرنس میں کچھ نہیں نکلا، پہلے چھ ماہ میں کون سی چیزثابت ہوئی جو ڈیڑھ ماہ میں ثابت ہوجائے گی، یہ دلیپ کمارکی فلم جیسا حال ہے کہ بیوی کو جب پیار نہ ملا تو اس نے دلیپ کمار کے بیڈ روم کو ہی آگ لگا دی۔

نوازشریف نے کہا کہ رینٹل پاور، کوٹیکنا، این آئی سی ایل جیسے کیسزہیں جن پرکرپشن ثابت ہوئی لیکن سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے کیس سنے نہیں جارہے، ہمارے کیس میں کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی کچھ نکالا جا رہا ہے، صرف میرے والد کے کاروبار کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ہمیں اللہ تعالی نے 1937 سے نوازنا شروع کیا اور اگر حساب لینا ہے تو 1937 سے لیں۔

گفتگو کے دوران صحافی کی جانب سے پی ٹی آئی میں عامر لیاقت کی شمولیت سے متعلق سوال کیا گیا تونوازشریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ وہ ن لیگ میں شامل نہیں ہوئے، انہوں نے چند سال پہلے کوشش کی تھی لیکن شمولیت نہیں کی، پی ٹی آئی بنی ہی عامر لیاقت جیسے لوگوں کے لیے ہے، پی ٹی آئی میں عامر لیاقت جیسے لوگ ہی سجتے ہیں جب کہ نواز شریف چودہری نثارسے متعلق سوال پر خاموش رہے اورکہا کہ میرا خیال ہے جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہی پورا کریں۔

نوازشریف نے کا کہا کہ کسی سے کوئی توقع نہیں رکھنا چاہتے، جب توقع ہی اٹھ گئی غالب تو کیا گلہ کرے کوئی، دنیا کا دستور ہے چلتا رہا ہے اورمشرف کی واپسی کی خبروں پر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس افسران کو کاروباری یونٹس و کاروباری مراکز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے