ازبکستان میں شادی کی تقریب میں 150 سے زائد مہمان بلانے پر پابندی کا فیصلہ

تاشقند: ازبکستان کی حکومت نے شادی کی تقریبات کو پرتعیش بنانے اور 150 سے زائد مہمان بلانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ازبکستان میں شادی کی تقریبات کو فضول خرچی سے بچانے کےلیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کےلیے ایک قانونی مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔ مسودے کی شقوں کے تحت شادی کی تقریبات میں 150 سے زائد مہمان بلانے، کھانے میں زیادہ گوشت والی ڈش رکھنے اور فنکشن کےلیے گلوکاروں اور مہنگی گاڑیوں کی بکنگ کرانے پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

اس مسودے کی شق منظر عام پر آنے کے باوجود ابھی اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو کیا سزا دی جائے گی۔ یہ اقدام ازبکستان کے صدر شوکات مرزایوف کے اس بیان کے بعد اٹھایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شادیوں کی تقاریب میں گوشت استعمال کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ کسی غریب شخص کی مدد کردی جائے اور ایسے والدین کی مدد کی جائے جو اپنی بچوں کی شادیاں نہیں کر پارہے۔

ازبک صدر کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کسی نے اس بیان کو درست قرار دیا جب کہ کچھ کا خیال تھا کہ ایسے اقدامات پہلے بھی کیے گئے تاہم عمل درآمد نہ ہونے کے باعث حکومتی اقدامات کارآمد ثابت نہیں ہوسکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

رابرٹ او برائن امریکا کے نئے مشیر قومی سلامتی مقرر

رابرٹ او برائن امریکا کے نئے مشیر قومی سلامتی مقرر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں ایک بار پھر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے حال …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے