پاکستانی اور بھارتی خفیہ ایجنٹس راتوں کو اندھیرے میں 3 بجے چھپ چھپ کر ایک دوسرے کے خلاف کیا کررہے ہیں؟ جان کر پاکستانیوں اور بھارتیوں دونوں کی ہنسی نکل جائے گی

پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی تو ہمیشہ سے جاری ہے لیکن لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ لڑائی سنگین ہونے کی بجائے مضحکہ خیز ہوتی چلی جا رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس میں جس سطح کی لڑائی کا انکشاف کیا گیا ہے اس سے تو کم از کم یہی لگتا ہے کہ اب کچھ ایسے حربے بھی استعمال ہو رہے ہیں جو اس سے پہلے صرف شرارتی بچے استعمال کرتے تھے۔ میل آن لائن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں جانب سے یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ رات کے وقت سفارتی رہائش گاہوں کے دروازے کی بیل دشمن کے خفیہ ایجنٹ بجا کر بھاگ جاتے ہیں۔ بلوم برگ کے نمائندے ایئین مارلو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا کہ ان کے گھر کی بیل رات تین بجے بجائی گئی۔ بھارتی حکام کا خیال تھا کہ یہ کام پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے کیا ہے لہٰذا بدلہ لینے کے لئے کچھ دن بعد ان کے خفیہ ایجنٹس نے بھی رات کے تین بجے بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کے رہائشگاہ کی بیل بجائی اور بھاگ گئے۔
یہ مضحکہ خیز معاملہ ایک طرف، لیکن دوسری جانب بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کو حقیقتاً ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جس پر گزشتہ روز ایک بار پھر پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارت سے جواب طلبی کی اور بھارت میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سفارتی عہدیدار کو بھی صورتحال پر مشاورت کے لئے بلایا گیا ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کو بھارت میں متعدد بار بار ہراساں کیا جاچکا ہے اور ان واقعات کے ویڈیو ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں۔ بھارت نے سفارتی آداب کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف سینئر سفارتکاروں کو ہراساں کیا ہے بلکہ ان کے سکول جاتے ہوئے کمسن بچوں کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بار بار شکایت اور احتجاج کے باوجود بھارت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کررکھی ہے جو اس کی بدنیتی کا ایک اور ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

پنجاب: سرگودھا میں 50 سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہوچکی ہے جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے