سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا معاملہ، پاکستانی ہائی کمشنر کو واپس بلالیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: نئي دلي ميں پاکستاني سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا معاملہ، پاکستاني ہائي کمشنر کو مشاورت کے لئیے وطن واپس بلالياگيا، ترجمان دفترخارجہ ڈاکڑ فيصل کہتے ہيں سفارتکاروں کي حفاظت بھارتي حکومت کي ذمہ داري ہے جس ميں وہ ناکام ہوگئی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکڑ فيصل نے ہفتہ وار میڈیا بريفنگ میں بتايا کہ نئي دلي ميں پاکستاني سفارتي عملے کو مسلسل ہراساں کياجا رہا ہے جس کے پيش نظر پاکستاني ہائي کمشنر کو مشاورت کے لئے اسلام آباد بلايا گيا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ہائي کمشنر کي جانب سے شواہد بھي فراہم کردئيے گئے ہيں۔ پاکستان اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کیلئے ہر حد تک جائے گا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتکاروں کي حفاظت ميزبان حکومت کي ذمہ داري ہے تاہم بھارتي حکومت اس ذمہ داري کو ادا کرنے ميں ناکام نظر آرہي ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بھارتي ڈپٹي ہائي کمشنر کو طلب کرکے معاملہ پر احتجاج بھی کيا ہے۔ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، مفاہمتی عمل کے ذریعے ہی کابل میں امن میں قائم کیا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطہ ميں ہتھياروں کي دوڑ ميں شامل نہيں، بھارت کے ساتھ ہتھياروں کا کوئي مقابلہ نہيں پاکستان خطہ ميں طاقت کے توازن کا حامي ہے، بھارتي اقدامات خطہ کے امن کے لئے خطرہ ہيں۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیرن سیمی کو پاکستان کی اعزازی شہریت دینے کی درخواست منظور

ڈیرن سیمی کو پاکستان کی اعزازی شہریت دینے کی درخواست منظور

اسلام آباد: صدر پاکستان نے پشاور زلمی کےکپتان اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ڈیرن سیمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے