”دلہن لے کر جاﺅں گا“ 10 سالہ دولہے کی ضد، پولیس رکاوٹ بن گئی

پولیس نے 10 سالہ بچے کی 15 سالہ لڑکی سے رخصتی کروادی۔تفصیل کے مطابق نواحی علاقہ لنگرواں کے رہائشی محمد افضل کے دس سالہ بیٹے غفار کی شادی کرم حسین کی 15 سالہ بیٹی رضوانہ سے طے ہوئی اور دولہا دھوم دھام سے بارات لے کر بستی لنگرواں پہنچاتو پولیس نے دولہا کو دیکھتے ہی اس کے والد محمد افضل سے شناختی کارڈ طلب کیا اور عمر کا ثبوت مانگا تو دولہا اور دلہن کی عمر کا ثبوت فراہم نہ کرسکے۔پولیس کی مداخلت پر بارات بغیر دلہن کے ہی واپس چلی گئی جبکہ دولہا ضد کرتا رہا کہ دلہن لے کر جاﺅں گا۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق دولہا دلہن کا تین روز قبل ان کے والدین نے شرعی نکاح بھی پڑھادیا تھا اور اب صرف رخصتی ہونا تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے سے فیکٹری کی چھت گرگئی

فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے سے فیکٹری کی چھت گرگئی

فیصل آباد: سرگودھا روڈ پر فیکٹری کا بوائلر پھٹ گیا جس سے فیکٹری کی چھت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے