چترال میں سیلاب، پھلوں کے باغات تباہ

ضلع چترال میں حکام کا کہنا ہے کہ مستوج سب ڈویژن کے علاقے بریپ میں سیلاب آنے کے باعث مقامی آبادی اپنے مکانات چھوڑ کر نسبتاً محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی ہے۔علاقے کے مقامی رہائشی سید کریم شاہ نے

بتایا کہ گاؤں کے اوپر موجود گلشیئر پگھلنے سے پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی، سیلاب کے باعث پانچ مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے بجلی کے کھمبے بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جبکہ بروغل جانے والی سڑک بھی دریا برد ہوگئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ چالیس گھرانے اپنے مال مویشیوں سمیت کھوتان لشٹ کے مقام پر منتقل ہوچکے ہیں۔

کریم شاہ کے مطابق گذشتہ سال آنے والے سیلاب کے باعث گاؤں میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے بے گھر خاندانوں کے لیے شیلٹرز فراہم کئے تھے جو تازہ سیلابی پانی کی وجہ سے بہہ گئے ہے جبکہ گاؤں کا زیادہ تر حصہ سیلابی ملبے سے بھر گیا ہے اور مکانات سمیت پھلوں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

گذشتہ سال بھی یہ گاؤں سیلاب کی زد میں رہا جس سے ناقابل تلافی نقصان کے باعث 30 گھرانے مستقل بنیادوں پر دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں اس علاقے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں سیلاب رات کے وقت آتا ہے اور بجلی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں جانی نقصان سمیت بڑے پیمانے پرمالی نقصانات کا خطرہ رہتا ہے۔

چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ نے

بتایا کہ سیلاب سے کچھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے لیکن اب صورتحال کنٹرول میں ہے چونکہ یہ گاؤں خطرنا ک پوزیشن پر ہے اور ہم نے پہلے ہی ان لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ محفوظ مقام پر منتقل ہوں لیکن ان لوگوں نے انکار کیا تھا اب ہم سرکاری طور پر ان لوگوں کو فی خاندان پانچ مرلے سرکاری زمین دینے کے لیے کیس حکومت کو ارسال کررہے ہیں۔مقامی شخص شہر یار بیگ نے

بتایا کہ اس علاقے میں بڑے پیمانے پرسیب کے باغات بھی موجود ہیں اور یہاں کے سیب اپنی بہترین خصوصیات اور مٹھاس کی وجہ سے نہ صرف پورے چترال بلکہ ملک بھرمیں مشہور ہیں ان کے مطابق علاقے میں سیلابوں کی وجہ سے 70 فیصد سیب اور اخروٹ کے باغات تباہ ہوگئے ہے جس سے مقامی لوگ معاشی طور پر کمزور ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آئین کے تحت مشیران اور, معاونِ خصوصی کو, حکومتی امور کے, اختیارات, نہیں دیے, جاسکتے

آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے

پشاور: جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے