سپریم کورٹ کا بھیک مانگنے والے بچوں اور دھندے میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاون کا حکم

اسلام آباد: چیف جسٹس نے سڑکوں پر بھیک مانگنے اور اشیاء بیچنے والے بچوں اور اس دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاون کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ریمارکس دئیے کہ چھوٹے بچوں کو نشہ آور انجکشن لگاکر بھیک مانگوائی جاتی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے طیبہ تشدد از خود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بچوں کو ٹیکا لگا کر سارا دن سڑکوں پر بٹھا دیا جاتا ہے، بڑا ہو کر وہ بچہ کیسا شہری بنے گا، معصوم بچوں پر اس ظلم کو روکنا پورے معاشرے کا فرض ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ بچوں کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کریں، اسلام آباد میں پیر ودھائی اور سبزی منڈی کے علاقوں میں دیکھ لیں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ مری میں بھی معصوم بچوں کو چیزیں بیچنے پر لگایا ہوا ہے۔ عدالتی معاون زمرد خان نے بتایا کہ پاکستان میں یتیم بچوں کی رجسٹریشن ایکٹ ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون کی تجویز کرسکتے ہیں تاہم قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے، اگر آپ کے پاس کوئی خاکہ ہے ہمیں دیں وفاقی حکومت کو بھیجتے ہیں، آپ کا اور ہمارا جذبہ مشترک ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ ہفتے ہائی کورٹ سے طیبہ کے مقدمے کا فیصلہ آجائے گا، کیس کی سماعت ایک ہفتے کےلئے ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

فروغ نسیم کو وزیر قانون کے منصب سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

فروغ نسیم کو وزیر قانون کے منصب سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان بار کونسل اور دیگر قانونی اداروں کے مطالبوں پر انور منصور خان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے