ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل کیا جائے، مشال کے والد کی چیف جسٹس سے اپیل

مشال خان کے والد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مشال قتل کیس کا دوبارہ ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ پشاور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ رہائی پانے والے ملزمان پر انہیں تحفظات ہیں، ان کی رہائی کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کو جان بوجھ کر 1 سال بعد ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ہری پور عدالت نے مدعی کے خاندان اور انکے وکلاء کی غیر موجودگی میں فیصلہ دیا جو غیر قانونی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے 5 وکلاء کی خدمات اور سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وکیل مانگنے پر وکیل تو دیا لیکن تاحال فیس نہیں دی۔ دوسری جانب ان کے وکیل ایاز خان کا کہنا تھا کہ میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا جسے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جبکہ دوسرے وکیل فضل خان نے کہا کہ حکومت فیصلہ پر اثر انداز ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا کی نظریں اس کیس پر ہیں اور رہائی پانے والوں کا استقبال ریاست کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں گرفتار کئے جانے والے قتل کے مرکزی ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم عارف کو سخت سکیورٹی میں بکتر بند گاڑی میں پہلے مردان کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم جج کی غیر حاضری کے باعث پھر سیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے ملزم عارف کے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے صرف 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

پشاور: پورے صوبے میں ویکسین مہم کا آغاز کرنے کی کوئی تُک نہیں بلکہ ضرورت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے