سعودی عرب سب سے زیادہ کن غیر ملکیوں کو سزائے موت دے رہا ہے؟جان کر ہر پاکستانی شدید غم و غصے کا شکار ہوجائے

انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور سٹڈی بائے جسٹس پروجیکٹ کی بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قریب تمام پاکستانی ’ہیروئن کی اسمگلنگ‘ کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں۔کاٹ اِن ا ویب یا جال میں پھنسےنامی اس رپورٹ کے مطابق سن 2014 تا 2017 سعودی حکومت نے چھیاسٹھ پاکستانیوں کے سر قلم کئے۔ ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں ریسرچر سروپ اعجاز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں بتایا، مسئلہ صرف موت کی سزا دینا ہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ سزائے موت بغیر شفاف مقدمہ چلائے دی جاتی ہے اور ان ملزمان کو باضابطہ قانونی عمل سے نہیں گزارا جاتا۔اعجاز کے مطابق، سعودی عرب میں پاکستانی تارکین وطن ’غیرمعمولی حد تک بے اختیار اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔‘‘ اعجاز نے بتایا کہ سعودی عرب میں فوجداری نظام انصاف ’امتیازی رویوں‘ سے عبارت ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں 1.6 ملین پاکستانی نژاد افراد مقیم ہیں، جو اس ملک میں دوسری سب سے بڑی غیرملکی آبادی ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان پاکستانی میں بڑی تعداد کم اجرت والی ملازمتوں اور نہایت محدود حقوق کی حامل ہیں۔بدھ کے روز اسلام آباد میں جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قریب 2795 پاکستانی سعودی جیلوں میں بند ہیں۔ سعودی میڈیا رپورٹوںمیں ابھی منگل چھ مارچ کو بتایا گیا تھا کہ ایک پاکستانی شہری کو مکہ شہر میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں موت کی گھاٹ اتارا گیا۔ گزشتہ ماہ چار دیگر پاکستانیوں کو ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے اور اس کی بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے