انسانیت کو ذبح کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، امام کعبہ نے دہشتگردوں کو اسلام سے خارج قرار دیدیا

لاہور: امام کعبہ شیخ صالح بن محمد آل طالب نے پاکستان علماء کونسل کی طرف سے دیئے جانیوالے عصرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام محبت، احترام اور رواداری کا درس دیتا ہے، بیگناہ انسانیت کو ذبح کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کی فوج اور قوم کی فرقہ وارانہ تشدد، انتہاء پسندی اور دہشتگردی کیخلاف جدوجہد قابل ستائش ہے، مسلم امہ کی وحدت ہی مسائل کا حل ہے، پاکستان علماء کونسل کا عالم اسلام کے مسائل پر مؤقف قابل ستائش اور عالم اسلام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ اس موقع پر پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے امام کعبہ کو پاکستان علماء کونسل کی اعزازی رکنیت پیش کی۔ امام کعبہ شیخ صالح آل طالب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اخوت، محبت اور ایمان کے رشتے ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی، پاکستان نے امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے ہمیشہ بنیادی کردار ادا کیا ہے اور پاکستان کی فوج اور قوم پر اُمت مسلمہ کو فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنیوالے امت مسلمہ کے دوست نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین الشریفین امت کی وحدت کا مرکز ہیں اور سعودی عرب کی قیادت خدام الحرمین کہلانے پر فخر محسوس کرتی ہے، امت کو تقسیم کرنے اور امت میں اختلاف پیدا کرنے کیلئے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، ان افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، افواہیں اور بے بنیاد باتیں بنانے والے امت کے دوست نہیں۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا ہر فرد ارض الحرمین الشریفین کا سپاہی ہے اور ارض الحرمین الشریفین کے دفاع اور سلامتی کیلئے ہر ہر لمحہ سعودی عرب کی قیادت کیساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور فوج نے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کیخلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مستقبل میں بھی سعودی عرب کی قیادت اور علماء کیساتھ مل کر ملت اسلامیہ کو انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے عفریت سے نکالنے کیلئے کوششوں کو جاری رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

اکتوبر میں ’آزادی مارچ‘ کرتے ہوئے اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کرلیا

اکتوبر میں ’آزادی مارچ‘ کرتے ہوئے اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کرلیا

لاہور: مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ 2018 کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے