ہیکروِل، انٹرنیٹ کے مجرموں پر مشتمل خطرناک قصبہ

سائبر کرائم جرم کی دنیا میں ایک نئی اصطلاح ہے، جس کا مکمل دارومدار انٹرنیٹ پر ہے۔ اس سے کسی بھی انٹرنیٹ صارف کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ سائبر کرائم سے اخذ کیا جانے والا مقصد صرف ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے پیسے کا حصول۔ مگر یہ بات اب تک نا معلوم تھی کہ یہ پیسہ ہیکروِل رِمنیکو ویلچہ جاتا ہے جو وسطی رومانیا میں موجود ایک چھوٹے سے قصبے کا نام ہے۔ یہاں تک کہ اس قصبے کے اپنے رہائشی اس بات سے ناواقف ہیں کہ اولٹینشیا کے صوبے میں پایا جانے والا یہ قصبہ کب اور کس طرح سائبر کرائم کا گڑھ بن گیا۔ لیکن رامنی کو والشیہ بہت پہلے ہی ہیکر وِل یا ہیکرز کا شہر کے دلچسپ نام سے مشہور ہوچکا تھا۔ بوکاریسٹ سے تین گھنٹے کے فاصلے پر موجود رِمنیکو ویلچہ ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ایک گائوں ہے۔ یہاں کے زیادہ تر رہائشی ہر قسم کی آن لائن دھوکے بازی کے ذریعہ حاصل ہونے والے پیسے سے اپنا نظام زندگی زندگی چلا رہے ہیں۔
اسکا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس خطہ کے وہ افراد جن کی عمر بیس یا اس سے بھی کم ہے، وہ انتہائی مہنگی اور اعلیٰ قسم کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ ان سب چیزوں کا آغاز 1989 کے انقلاب کے بعد ہوا۔ رومانیہ ایک معاشی مارکیٹ بن گیا اور وہاں کے رہنے والوں کو کمپیوٹر تک رسائی حاصل ہوگئی۔ اب وہ لوگ مکمل طور پر یا جزوی طور پر دھوکے بازی میں ملوث ہیں۔ لہٰذا یہ شہر اب ایف بی آئی کی توجہ کا مرکز ہے۔ لیکن مقامی ادارے اس پر توجہ نہیں دیتے۔ وہاں سے کی جانے والی پہلی دھوکے بازی صرف ابتدائی سطح کی تھی۔ لیکن سالہا سال میں ان لوگوں نے اس کام میں اتنی مہارت اور کمال حاصل کرلیا ہے کہ اب وہ کسی بھی خریدار کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے نظام کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ امریکا میں موجود انکے خاص کارندے بھی ہیں جو پیسہ وصول کر کے انہیں رومانیہ پہنچاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہیکروِل میں سائبر کرائم لاکھوں کی تعداد کو پہنچ چکا ہے اور اس کی وجہ سے اب وہاں نئے رہائشی اپارٹمنٹس، شاپنگ سنٹرز اور نائٹ کلبز بھی بن رہے ہیں۔ سائبر کرائم کے اس نظام کے مرکزی پلیٹ فارم ای بے اور کریگلسٹ جیسی ویب سائٹس ہیں جن کے ذریعہ جھوٹے کاروبار سے پیسہ کمایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں

دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں

کراچی: ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ آف بیہیورل سائنسِس کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ دماغی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے