نیب ریفرنسز کی سماعت؛ خراب طبیعت کی وجہ سے نواز شریف کو رخصت

اسلام آباد: احتساب عدالت نے طبیعت خراب ہونے کے باعث نواز شریف کو گھرجانے کی اجازت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے خلاف پیشی کے لیے پہنچے۔ سماعت کے دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ نوازشریف کی طبیعت خراب ہے اس لیے انہیں جانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دی، تاہم اجازت ملنے کے باوجود بھی نواز شریف پانچ منٹ تک عدالت میں بیٹھے رہے۔

سماعت کے دوران شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس میں گواہ شاہد محمود کا بیان قلمبند کرلیا گیا، انہوں نے بتایا کہ وہ سرکاری ٹی وی میں بطور پروڈیوسر کرنٹ آفیئرز کام کر رہے ہیں، انہوں نے وی ٹی آر سے ٹیپ ریکارڈ لے کر نواز شریف کی تقریروں کی ڈی وی ڈیز تیار کرائیں، نواز شریف کے قوم اور قومی اسمبلی سے خطاب کی ویڈیو اور متن نیب کو فراہم کیا۔

خواجہ حارث کا نواز شریف کے قومی اسمبلی میں خطاب کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے پر اعتراض کر دیا، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے ذاتی مقصد کے لئے قومی اسمبلی کا ایوان استعمال کیا، ان کی تقریر کا ایوان کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس لئے نواز شریف کی اس تقریر پر آرٹیکل 66 کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے جب کہ گزشتہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کیے جا سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس افسران کو کاروباری یونٹس و کاروباری مراکز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے