بنی گالا تعمیرات کیس، عمران خان کے گھر کا نقشہ غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالا تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عمران خان کے گھر کا نقشہ منظور شدہ نہیں اس لیے تعمیرات غیرقانونی ہے۔ سپریم كورٹ میں اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق كیس كی سماعت ہوئی۔ عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بابراعوان سے استفسار کیا كہ شور مچا ہوا ہے كہ عمران خان کے گھر کی دستاویزات درست نہیں اور تمام تعمیرات غیرقانونی ہیں۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے مؤقف پیش کیا کہ نقشے کے لیے یونین کونسل کے پاس گئے، این اوسی کی دستاویزات پر سیکرٹری یونین کونسل محمد عمر کے دستخط ہیں، سیکرٹری یونین کونسل کے دستخطوں کا جائزہ لے، ہم نے کوئی جھوٹ نہیں بولا کوئی جعل سازی نہیں کی، حکومت کی جعل سازی ثابت کروں گا، کیا یونین کونسل کے چند پیسوں کے لیے جعل سازی کریں گے، سیکرٹری لکھتا ہے کہ عمران خان کی درخواست پر نقشہ طلب کیا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نقشہ کے لیے یونین کونسل سے رابطہ کیا گیا، یونین کونسل برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے، ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ حکومت ہمارا میڈیا ٹرائل کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ بہت زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں، آپ یہ بیان دیں ہم قانون بننے کے بعد تعمیرات ریگولر کروالیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بنی گالہ میں سب کے لئے ایک ہی قانون بنے گا اور جو سلوک باقی سب کے ساتھ ہو گا، وہی آپ کے ساتھ بھی ہوگا، آپ سے پہلے کہا تھا کہ حفظ ماتقدم میں 20 لاکھ روپے جمع کروادیں، آپ کے گھر کانقشہ بھی منظور شدہ نہیں، ہماری نظر میں تعمیرات غیرقانونی ہے، حتمی طور پرتعمیرات کو ریگولر ہی کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرکاری لیز دینے پر بندر بانٹ تو نہیں ہوتی، سرکاری اراضی کو تیس سال کی لیز پر دے دیا گیا ہے، سی ڈی اے کے کس چیئرمین نے یہ لیز دی۔ سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری عدالت میں پیش ہوئے اور بیان دیا کہ راول ڈیم کے قریب سی ڈی اے نے تفریحی پارک بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور پارک کے ساتھ اسپورٹس سے متعلقہ کورٹس بھی مختص کیے گئے۔ چیف جسٹس سے کامران لاشاری سے استفسار کیا کہ سرکاری زمین لیز پر دینے کا اختیار کس قانون نے دیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ ایک سرکاری زمین کی لیز منسوخ کر کے قبضہ واپس حاصل کر لیا، کچھ لوگوں نے سرکاری زمین کو آگے لیز آؤٹ کیا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس لیز زمین پر اسپورٹس سرگرمیاں نہیں ہو رہیں وہ منسوخ کریں گے، صحت مندانہ کھیلوں کی سرگرمیاں ہونی چاہیں اور جو لوگ لیز کی شرائط پوری نہیں کر رہے ان کی لیز منسوخ کریں گے، موجودہ اور سابقہ چیئرمین موقع پر جا کر لیز اراضی کا جائزہ لیں اور قانون کے مطابق جائزہ لے کر ایکشن لیں، کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرنی۔ عدالت نے بنی گالا تعمیرات کسی کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے سی ڈی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔

یہ بھی پڑھیں

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

تاجروں و صنعتکاروں کا دباو اور ردعمل کام دکھا گیا

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس افسران کو کاروباری یونٹس و کاروباری مراکز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے