شریف خاندان کی بیرون ملک جائیدوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں نیب کی جانب سے مختلف ملکوں کو لکھے گئے خطوط کے جوابات میں شریف خاندان کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ برطانوی لا فرم نے شریف خاندان کی جانب سے لندن فلیٹس کی انیس سو تریانوے سے سے انیس سو چھیانوے کے درمیان خریدے جانے کی تصدیق کردی۔ فلیگ شپ کمپنیوں کیلئے پاکستان سے اڑتالیس کروڑ روپے برطانیہ بھجوائے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں نیب کے مختلف ممالک کو لکھے گئے خطوط کے جوابات میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ برطانوی لاء فرم نے لندن فلیٹس 1993ء سے 1996ء کے درمیان خریدے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ فلیگ شپ کمپنیوں کیلئے پاکستان سے اڑتالیس کروڑ روپے برطانیہ بھیجوائے گئے۔

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ نیلسن اور نیسکول 2012ء سے مریم نواز کی ملکیت ہیں۔ یو اے ای کی طرف سے ملنے والے جواب میں طارق شفیع کا بیان حلفی جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ فلیگ شپ ریفرنس میں متحدہ عرب امارات کے چار جوابات نیب کو موصول ہوئے ہیں۔ جوابات میں نواز شریف کی کیپٹپل ایف زیڈ ای میں ملازمت بارے دستاویز بھی شامل ہے۔ سامیا بنک کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کے لندن فلیٹس کا انتطام منروا سروسز کے پاس ہے۔ نیب دستاویزات کے مطابق حسن نواز کی دس آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی نیب کو موصول ہوئی ہیں۔ جن کے مطابق حسن نواز نے چوہدری شوگر ملز کو آٹھ کروڑ سے زائد قرضہ دیا۔ 2008ء اور 2009ء کے درمیان کیپیٹل ایف زیڈ ای نے نو کروڑ روپے سے زائد قرضہ برطانوی کمپنی کو دیا گیا۔

ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق 1996ء سے 2001ء تک شریف خاندان کے کل اثاثے صرف چھ کروڑ تھے۔ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اٹھائیس کروڑ شریف خاندان کے اکاونٹس میں منتقل ہوئے۔ بیروں ممالک کی طرف سے بھیجے گئے جوابات کی سمری چیئرمین نیب کو بھی پیش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے